منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

لڑکی کے اغواء کامعاملہ،وزیراعظم عمران خان صوبائی حکومت پر برہم،وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کو دوٹوک پیغام دے دیا

datetime 12  اپریل‬‮  2019 |

لاہور ( این این آئی) وزیر اعظم عمران خان نے لڑکی کے اغواء کے معاملے پر پنجاب پولیس کی جانب سے بار بار جھوٹ بولنے پر صوبائی حکومت پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلی کو 14 دن میں ذمہ داروں کا تعین کرنے اور غلط رپورٹ دینے کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔لاہور کی ایک خاتون نے پاکستان سٹیزن پورٹل پر اپنی بیٹی کے اغواء کی شکایت درج کرائی اور لکھا کہ پولیس اس کی بیٹی کو بازیاب نہیں کرا رہی بلکہ اس کے بیٹے اور پڑوسیوں پر تشدد بھی کیا ہے،

جس پر وزیراعظم آفس کی جانب سے لاہور پولیس کو واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا گیا۔ پولیس نے وزیراعظم آفس کو دوبارہ رپورٹ دیتے ہوئے کہا کہ معاملہ حل ہوچکا ہے جبکہ حقیقت یہ تھی کہ لڑکی بازیاب نہیں کرائی گئی۔پولیس کا جھوٹ پکڑے جانے پر وزیراعظم آفس کی جانب سے چیف سیکریٹری پنجاب کو ایک خط لکھا گیا جس میں وزیراعظم آفس نے پنجاب حکومت کی جانب سے معاملے پر توجہ نہ دینے پرتنقید کی اورلکھا کہ عوامی شکایات کا ازالہ نہ ہونا گڈ گورننس اور فرائض کی ادائیگی کے اصولوں کے خلاف ہے۔خط میں پنجاب حکومت کی توجہ پولیس کی جانب سے بار بار جھوٹ بولنے کی طرف بھی دلاتے ہوئے کہا گیا کہ خاتون کی شکایت کو جس طرح ہینڈل کیا گیا اس کے بعد پنجاب حکومت کے طریقہ کار پر کئی سوالات اٹھتے ہیں۔وزیراعظم آفس کے خط میں پنجاب حکومت سے جواب طلبی کرتے ہوئے پوچھا گیا کہ خاتون کی جانب سے شکایت کو مکمل توجہ کیوں نہیں دی گئی؟ شکایت حل نہ ہونے کے باوجود وزیراعظم کو شکایت حل ہونے کا جواب کیوں بھجوایا گیا؟ کئی سطحوں پر معاملے کو مناسب توجہ نہیں دی گئی۔ تمام تر معاملے میں پولیس افسروں کے کردار اور سپروائزری میکانزم پر بھی سوال اٹھتے ہیں۔وزیراعظم آفس کے خط میں لکھا گیا ہے کہ اس تمام معاملے پر پنجاب حکومت اعلی سطح کی تحقیقات کرائے اوراپنی ذمہ داری ادا نہ کرنے والے افسروں کا تعین کرے، وزیراعظم آفس نے پنجاب حکومت سے دو ہفتوں کے اندر پورے معاملے پر رپورٹ طلب کی ہے اور معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانیکی ہدایت کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…