منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

پاکستان میں ٹیکس وصولی قابل ذکر حد تک کیسے بڑھی؟ آئی ایم ایف نے اعتراف کرلیا

datetime 9  اپریل‬‮  2019 |

واشنگٹن( آن لائن )آئی ایم ایف نے ایک حالیہ تحقیق میں کہا ہے کہ پاکستان میں کارکردگی کی بنیاد پر ٹیکس حکام کی تنخواہوں کی وجہ سے ٹیکس وصولی قابل ذکر حد تک بڑھی لیکن اس حکومتی اقدام سے رشوت کی شرح میں بھی اضافہ ہوگیا۔ آئی ایم ایف کی حکومتوں میں بدعنوانی سے نمٹنے سے متعلق تحقیق میں 180 سے زائد ممالک کا جائزہ لیا گیا ۔

یہ بات سامنے آئی زیادہ بدعنوان ممالک نے کم ٹیکس جمع کیا کیونکہ لوگ اس سے بچنے کے لیے رشوت ادا کرتے ہیں، جس میں کک بیکس کی ادائیگی کے لیے ٹیکس میں ڈیزائن کی گئی خامیاں شامل ہوتی ہیں۔تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ جب ٹیکس دہندگان کو یہ لگتا ہے کہ اس کی حکومت بدعنوان ہے تو وہ ٹیکس کی ادائیگی سے بچنے کی زیادہ کوشش کرتا ہے۔آئی ایم ایف نے اپنی تحقیق میں پاکستان کی جانب سے کارکردگی کی بنیاد پر ٹیکس حکام کے لیے حالیہ مراعات کا جائزہ لیا جس میں پسندیدہ اور ناپسندیدہ نتائج دونوں شامل تھے۔تحقیق میں یہ پتہ چلا کہ ‘ پاکستان میں ٹیکس حکام کی کارکردگی کی بنیاد پر تنخواہوں نے (زیادہ سے زیادہ 50 فیصد)تک ٹیکس وصولی میں نمایاں اضافہ کیا جبکہ رشوت کی درخواستیں بھی 30 فیصد تک بڑھ گئیں۔آئی ایم ایف کی جانب سے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے زائد اجرت کو نگرانی اور پابندیوں سے جوڑنے کی تجویز دی گئی۔ساتھ ہی جارجیا میں اصلاحات کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ اس سے کرپشن میں نمایاں طور پر کمی اور ٹیکس ریونیو دوگنا سے زیادہ بڑھا جس سے 2003 سے 2008 کے درمیان جی ڈی پی کے 13 فیصد پوائنٹس میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔1990 کی دہائی کے وسط سے کرپشن کے خلاف روندا کی اصلاحات سے ٹیکس آمدنی میں جی ڈی پی کے 6 فیصد پوائنٹس تک اضافہ ہوا۔

کرپشن سے لڑنا اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے مقاصد میں سے ایک ہے کیونکہ اس کا وسیع تصور ہے کہ بدعنوانی سے نمٹنا معاشی کارکردگی اور اقتصادی ترقی کے لیے اہم ہے۔آئی ایم ایف کی تحقیق بتاتی ہے کہ مجموعی طور پر کم کرپٹ حکومتیں ان ممالک کے مقابلے میں ٹیکس آمدنی میں جی ڈی پی کا 4 فیصد زیادہ جمع کرتی ہیں جو کرپشن کی بلند سطح کے ساتھ اسی سطح کی اقتصادی ترقی کی شرح پر ہوں۔ساتھ ہی اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ کرپشن حکومتی ترجیحات کو بھی مسخ کردیتی ہے۔آئی ایم ایف کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ کرپشن لوگوں کو ملک کی قدرتی وسائل سے بننے والی رقم کے مکمل فائدے سے مستفید ہونے سے بھی روکتی ہے کیونکہ تیل یا کان کنی کی تلاش سے بڑا منافع ہوتا ہے اور یہ کرپشن کے لیے ایک مضبوط رغبت پیدا کرتا ہے۔عالمی ادارے کی تحقیق یہ ظاہر کرتی ہے کہ وسائل سے مالا مال ممالک میں عموما کمزور ادارے اور زیادہ کرپشن ہوتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…