جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

مارکیٹ سے ڈالر غائب ریٹ بڑھنے اور قلت سے بھونچال آگیا،اوپن کرنسی مارکیٹ میں امریکی ڈالرکتنے میں ملنے لگا؟ تاجروں کے ہوش ہی اُڑ گئے

datetime 5  اپریل‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)پاکستانی معیشت کو ایک اور بڑا جھٹکا، مارکیٹ سے امریکی ڈالر غائب۔ اوپن کرنسی مارکیٹ میں 148 روپے میں بھی ڈالر دستیاب نہیں، ایک بار پھر محدود پیمانے پر حوالہ ہنڈی کے کاروبار میں تیزی آگئی۔ تاجروں کا پاکستانی کرنسی پر اعتماد ختم، ہول سیلرز اور برآمد کنندگان نے پاکستانی کرنسی کے بجائے ڈالر میں لین دین شروع کردیا،

امپورٹرز نے ہول سیلرز کو تمام کاروباری لین دین ادھار کے بجائے کیش میں کرنے کی ہدایت کردی۔ تفصیلات کے مطابق روپے کی مسلسل بے قدری، امریکی ڈالر کے نرخوں میں مسلسل اضافے اور ماہر معاشیات کی جانب سے ڈالر کی قیمت پاکستانی روپے کے مقابلے میں 150 روپے سے زائد ہونے کی اطلاعات کے بعد مارکیٹوں میں افراتفری کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے اور تاجروں کا پاکستانی کرنسی پر اعتماد ختم ہوتا جارہا ہے، اس حوالے سے گزشتہ دنوں جب اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 143 روپے سے زائد ہونے کی اطلاعات کے بعد کراچی سمیت ملک کے تمام بڑے شہروں میں ہول سیلرز اور امپورٹرز کی جانب سے پاکستانی کرنسی کے بجائے امریکی کرنسی ڈالر میں لین دین شروع کردی گئی ہے۔ اس حوالے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق امپورٹرز نے ہول سیلرز کو ادھار پر مال دینا بند کر دیا ہے اور انہیں کہا جارہا ہے کہ یا تو جس دن مال پاکستان میں آئے گا اس دن ڈالر کے جو ریٹ ہوں گے اسی حساب سے پیمنٹ کی جائے یا پھر کیش پیمنٹ کی جائے۔ پاکستانی کرنسی پر لوگوں کا اعتماد ختم ہونے کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک ماہ سے انٹربینک میں ڈالر کے نرخوں میں کوئی استحکام نہیں ہے، انٹربینک میں مارچ سے شروع ہونے والی تیزی کی وجہ سے ڈالر کے نرخوں میں 3 روپے تک اضافہ ہوا ہے۔ دوسری طرف فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان اور دیگر منی چینجرز نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے فری مارکیٹ میں ڈالر کا ریٹ بڑھنے اور ڈالر کی قلت پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…