اتوار‬‮ ، 30 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

اسے کہتے ہیں حقیقی تبدیلی۔۔۔!!! تحریک انصاف کی حکومت نے وزیراعظم کے صوابدیدی اختیارات کم کر دیئے

datetime 27  مارچ‬‮  2019 |

اسلام آباد( آن لائن )پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے وزیراعظم کے صوابدیدی اختیارات کم کر دیے ہیں اور 65 مختلف سرکاری اداروں میں چیف ایگزیکٹو افسر(سی ای او) کی تعیناتی کیلئے یکساں ادارہ جاتی طریقہ کار (میکنزم) کی منظوری دی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ان اداروں میں پی آئی اے، واپڈا، پی ایس او، او جی ڈی سی، ایس ایس جی سی۔

ایس این جی سی، ایس ای سی پی، نیشنل بینک، بورڈ آف انوسٹمنٹ، نجکاری کمیشن، پاور اور جنریشن کمپنیاں، ریگولیٹری اتھارٹیاں، پی ٹی وی، پی ٹی اے، سول ایوی ایشن اتھارٹی، نادرا اور دیگر ادارے شامل ہیں۔ان تمام 65 سرکاری اداروں میں تقرری کیلئے عوامی اشتہار کی اشاعت، اہل امیداروں کی حتمی فہرست کی تیاری اور سلیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرویو کا طریقہ اختیار کیا جائے گا۔سلیکشن کمیٹی تین سے پانچ افراد کے حتمی نام وزیراعظم کو پیش کرے گی جو کسی بھی ادارے میں انہیں چیف ایگزیکٹو افسر مقرر کر سکیں گے۔ سلیکشن کمیشن متعلقہ وزیر، ڈویژن کے سیکریٹری، متعلقہ شعبے سے تعلق رکھنے والے تین سے پانچ ماہرین اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کے نان ایگزیکٹو چیئرمین پر مشتمل ہوگی۔سرکاری ذرائع کے مطابق، یہ اقدام اس لئے کیا گیا ہے کہ اہم ترین سرکاری اداروں میں چیف ایگزیکٹو افسر کے انتخاب کیلئے یکساں نظام لایا جا سکے اور بہترین امیدواروں کو مقابلے کے مرحلے کی جانب راغب کیا جا سکے۔سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ اس نئے طریقہ کار کی منظوری دے چکی ہے جس میں وزیراعظم کے صوابدیدی اختیارات کم کر دیے گئے ہیں جبکہ سلیکشن کا کام کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ہے۔

کابینہ دستاویز کا حوالہ دیتے ہوئے ذرائع کا کہنا تھا کہ سلیکشن کمیٹی میں متعلقہ ڈویژن کا انچارج وزیر،ڈویژن کا سیکریٹری، ادارے کے ڈومین اور اس کی سرگرمیوں اور کام کے متعلق ماہرانہ معلومات رکھنے والے اسپیشلسٹ، جس ادارے میں بورڈ ہوگا اس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا نان ایگزیکٹو چیئرمین یا بورڈ کا سینئر رکن، اور جس ادارے میں بورڈ نہیں وہاں وزیراعظم کسی رکن کو نامزد کر سکتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ 65 سرکاری اداروں میں سے کسی ایک سرکاری ادارے میں بطور چیف ایگزیکٹو بھرتی کیلئے متعلقہ ڈویژن کام کی نوعیت (Job Description)، اہلیت کا معیار اور کام کیلئے ضروری ہنر (Skills) تیار کرے گی۔سلیکشن کمیٹی کام کیلئے جائزہ معیار (Evaluation Parameters) کا تعین بھی کرے گی۔ متعلقہ ڈویژن سرکردہ اخبارات میں اسامی کا اشتہار شائع کرائے گا اور یہی اشتہار سرکاری ویب سائٹس پر بھی پبلش کیا جائے گا۔ڈویژن اس کے بعد سلیکشن کمیٹی کو اہل امیدواروں کی فہرست (شارٹ لسٹ) پیش کرے گی تاکہ ابتدائی جائزہ لیا جا سکے۔ جب شارٹ لسٹنگ کا کام مکمل ہو جائے گا تو ڈویژن انٹرویز کا اہتمام کرے گا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(آخری حصہ)


جنرل فیض حمید اور عمران خان کا منصوبہ بہت کلیئر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)

عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…