بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

بہاولپور: پروفیسر کو قتل کرنے والا طالبعلم 15 روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے ،ملزم نے عدالت میں اقبال جرم کرلیا

datetime 21  مارچ‬‮  2019 |

بہاولپور(آن لائن)بہاولپور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے چھری کے وار سے پروفیسر کو قتل کرنے والے طالب علم کو ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔واضح رہے کہ صادق ایجرٹن کالج میں شعبہ انگریزی کے سربراہ پروفیسر خالد حمید کالج میں اپنے دفتر میں موجود تھے جب انہیں طالب علم نے مبینہ طور پر پہلے مخاطب کیا اور پھر چھری کے وار کیے تھے۔

پولیس کا کہنا تھا کہ شعبہ انگریزی میں ‘بی ایس’ پروگرام کے پانچویں سیمسٹر کے طالب علم خطیب حسین کا کالج میں ‘ویلکم پارٹی’ کے انعقاد کے حوالے سے پروفیسر خالد حمید سے سخت جملوں کا تبادلہ ہوا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ پروفیسر خالد حمید اس تقریب کی نگرانی کر رہے تھے جو کالج میں نئے آنے والے طلبہ کو خوش آمدید کہنے کے لیے 21 مارچ کو منعقد کی جانی تھی۔پولیس کے مطابق طالب علم خطیب حسین اس تقریب کا مخالف تھا کیونکہ اس کے مطابق طلبا اور طالبات کی مخلوط محفل ‘غیر اسلامی’ تھی۔پولیس نے کہا کہ پروفیسر سے تلخ کلامی کے بعد خطیب حسین نے خالد حمید کے سر اور پیٹ پر چھری سے وار کیا جس کی وجہ سے وہ شدید زخمی ہوگئے تھے۔بعد ازاں پروفیسر کو بہاولپور کے وِکٹوریا ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے تھے۔ملزم کو پولیس نے کیس میں تحقیقات کے لیے ریمانڈ طلب کرنے کے لیے عدالت میں پیش کیا۔ملزم نے عدالت میں اقبال جرم کیا تاہم پولیس نے قتل کی تمام زاویوں سے تحقیقات کی خواہش کا اظہار کیا۔عدالت نے ملزم خطیب کا 15 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے ملزم کو پولیس کے حوالے کردیا۔بہاولپور کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر امیر تیمور خان کا کہنا تھا کہ معاملے پر تحقیقات کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ا آلات کا بھی استعمال کیا جارہا ہے۔انہوں نے پروفیسر کے اہلخانہ کو انصاف فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ تحقیقات میں فارنزک شواہد پر بھی غور کیا جارہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…