بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

سانحہ ساہیوال، ایس ایس پی جواد قمر کو گولی چلانے کے حکم سے بری الذمہ قرار ،ذیشان کے گھر والوں کو کس بات کا علم تھا؟ جے آئی ٹی رپورٹ نے کئی سوالات کھڑے کر دیے

datetime 20  مارچ‬‮  2019 |

لاہور ( این این آئی) سانحہ ساہیوال پر بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جی آئی ٹی) کی رپورٹ نے کئی سوالات کھڑے کر دیئے ،رپورٹ میں ایس ایس پی جواد قمر کو گولی چلانے کے حکم سے بری الزمہ قرار دیا گیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق جے آئی ٹی رپورٹ میں نشاندہی نہیں کی گئی کہ گولی چلانے کا حکم درحقیقت کس نے دیا۔ رپورٹ کے مطابق ذیشان کی کار کا پیچھا ایس ایس پی جواد قمر کررہے تھے

لیکن ایس ایس پی جواد قمر 35 منٹ بعد سانحہ کی جگہ پہنچے۔رپورٹ سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر ایس ایس پی کار کا پیچھا کررہے تھے تو 35 منٹ لیٹ کیوں پہنچے؟۔مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈرائیور ذیشان کا دہشت گردوں اور افغانستان میں بھی رابطہ تھا جب کہ اس کی والدہ، بھائی اور بیوی کو مشکوک سرگرمیوں کاعلم تھا۔رپورٹ کے مطابق ذیشان کے اہلخانہ کو مشکوک لوگوں کو گھر میں پناہ دینے کا بھی علم تھا جبکہ اس کے کانسٹیبل بھائی کا کردار بھی مشکوک ہے۔جے آئی ٹی ٹیم نے ڈولفن فورس کے کانسٹیبل احتشام کا نام فورتھ شیڈول میں شامل کرنے کی سفارش بھی کی ہے۔دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ نے سانحہ ساہیوال پر جوڈیشل کمیشن بنانے کی درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے کمیشن کی تشکیل کی حد تک دائر تمام درخواستیں خارج کردی ہیں۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمدشمیم خان کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا۔عدالت نے جوڈیشل انکوائری کرانے کی استدعا منظور کرتے ہوئے انکوائری رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ کے حوالے کی ہے۔ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ میں چالان جمع کرائے جانے پر5 درخواستیں غیر موثر قرار دے کر نمٹادی ہیں۔عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کا اختیار صوبائی اور

وفاقی حکومت کے پاس ہے۔یاد رہے کہ مقتول خلیل کے بھائی جلیل اور مقتول ذیشان کی والدہ حمیدہ بی بی سمیت دیگرنے درخواستیں دائر کیں تھی جس میں جے آئی ٹی کالعدم قرار دینے اور جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی استدعا کی گئی تھی۔اس سے قبل 14 فروری کو لاہور ہائیکورٹ سانحہ ساہیوال پر جوڈیشل انکوائری کا حکم دے چکی ہے۔ خیال رہے کہ رواں سال 19 جنوری کو پولیس کے

محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی)نے ساہیوال کے قریب جی ٹی روڈ پر ایک مشکوک مقابلے کے دوران گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کردی تھی، جس کے نتیجے میں ایک عام شہری خلیل، اس کی اہلیہ اور 13 سالہ بیٹی سمیت 4 افراد جاں بحق اور تین بچے زخمی ہوئے جبکہ 3 مبینہ دہشت گردوں کے فرار ہونے کا دعوی ٰکیا گیا۔واقعے کے بعد سی ٹی ڈی کی جانب سے متضاد بیانات دیئے گئے، واقعے کو پہلے بچوں کی بازیابی سے تعبیر کیا

گیا تاہم بعدازاں ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد مارے جانے والوں میں سے ایک کو دہشت گرد قرار دے دیا گیا۔میڈیا پر معاملہ آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے بھی واقعے کا نوٹس لیا، دوسری جانب واقعے میں ملوث سی ٹی ڈی اہلکاروں کو حراست میں لے کر تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی، جس کی ابتدائی رپورٹ میں مقتول خلیل اور اس کے خاندان کو بے گناہ قرار دے کر سی ٹی ڈی اہلکاروں کو ذمہ دار قرار دے دیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…