پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

پنڈی ہمارے لئے قتل گاہ ہے ہمیں وہاں سے کبھی لاش اور کبھی پھانسی دی جاتی ہے،پیپلزپارٹی نے سنگین الزامات عائد کردیئے

datetime 18  مارچ‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ پنڈی پیپلزپارٹی کے لئے قتل گاہ ہے ہمیں وہاں سے کبھی لاش اور کبھی پھانسی دی جاتی ہے صرف اسپیکر ہی نہیں بلکہ پوری قوم عتاب میں ہے۔ وہ پیر کو اسپیکر آغا سراج درانی سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کررہے تھے ۔سید خورشید شاہ نے کہاکہ صرف اسپیکر آغا سراج درانی نہیں بلکہ پوری قوم عتاب میں ہے ہم نے بہت کوشش کی مگر جمہوریت برائے نام اور طریقہ کار ڈکٹیٹر شپ والا ہے

انسانی حقوق پامال کئے جارہے ہیں ملک کی وہ اسمبلی جس نے ملک کے قیام کی قرارداد پاس کی مگر اسکے اسپیکر کے ساتھ رویہ بہت آئی ہتک آمیز ہے یہاں بانی پاکستان نشست پر بیٹھے اسپیکر کی توہین کی گئی اسکے اہل خانہ کو تنگ کیا گیا جب ملک کے پارلیمنٹیرین محفوظ نہیں تو کون محفوظ ہوگا انہوں نے کہا کہ سب سراپا احتجاج ہیں آخر سیاستدانوں نے کیا مانگا ہے جمہوریت کی بات کی ہے حق حکمرانی مانگا ہے اور کیا؟ وفاقی وزیر اطلاعات کے بیانات غیر سنجیدہ ہیں وفاق کا دو سو ارب کا خسارہ ہے وفاقی حکومت کیوں سندھ کے واجبات ادا نہیں کررہی اگر خسارہ ہے بھی تو اس میں تمام سندھ کا نہیں ہے نیب کے قانون میں ترمیم کے حوالے سے ایک مرتبہ حکومت سے بات ہوئی تھی جس میں اسپیکر قومی اسمبلی اور انکے وزرا بھی شامل تھے ہمارے دور میں ایوان سے اتفاق رائے سے قوانین منظور ہوئے تاہم موجودہ حکومت اس طرف توجہ نہیں دے رہی۔ ایم کیوایم پاکستان مجبور ہے کیونکہ وہ حکومت میں ہے اس وقت ملک میں مہنگائی کا عزاب ہے کیا آج کوئی خوش نہیں ہے سیاستدان تو حکومتی کی کارکردگی پر ہی بات کریگا ہمارا احتجاج حکومت پر دبا ڈالنے کے لئے ہے تاکہ مہنگائی ملک سے کم ہو۔ ملک میں جو بھی بچہ پیدا ہورہا ہے وہ پونے دو لاکھ کا مقروض پیدا ہورہا ہے۔ وزیرخزانہ خود آئی ایم ایف کے پاس جارہا ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے نصیب میں پنڈی ہے کبھی وہاں سے شہید کرکے بھیج دیتے ہیں کبھی پھانسی دیکر اور کبھی سزا دیکر بھیج دیتے ہیں ہمیں پنڈی بار بار کیوں یاد دلایا جاتا ہے بھارتی جارحیت کے موقع پر وزیراعظم عمران خان نے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی پوری کوشش کی مگر ہم تقسیم نہیں ہوئے یہ سہرا صرف اپوزیشن جماعتوں کو جاتا ہے سید خورشید شاہ نے شیخ رشید کے بیان پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا اور کہا کہ انکی بات کا جواب نہیں دونگا انکی اہمیت بڑھ جائیگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…