منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

دنیا کی مہنگی ترین گھڑی دو کروڑ 13 لاکھ ڈالر میں فروخت

datetime 12  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

جنیوا ۔۔۔۔ یورپی ملک سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ہاتھ سے تیار کی گئی ایک پیچیدہ ترین گھڑی دو کروڑ 13 لاکھ ڈالر میں فروخت ہوئی ہے۔اس گھڑی کا نام ’گریوز سپر کامپلیکیشن‘ ہے اور اس گھڑی کو سنہ 1932 میں سوئس کمپنی پیٹک فلپ نے امریکہ کے امیر بینکر ہینری گریوز کے لیے تیار کیا تھا۔گھڑی کی تیاری میں 24 کیرٹ سونا استعمال کیا گیا ہے اور اس کا وزن پانچ سو گرام ہے۔ہینری گریوز نے کمپنی کو سنہ 1925 میں گھڑی تیار کرنے کا کہا تھا تاہم 1933 تک ان کے حوالے نہیں کی گئی۔یہ گھڑی آٹھ سال میں تیار ہوئیجنیوا کے نیلام گھر سودیبیز کے مطابق کمپیوٹر کی مدد کے بغیر تیار کی جانے جانے والی یہ دنیا کی سب سے پیچیدہ گھڑی ہے جو اب بھی ٹھیک حالت میں ہے۔اس گھڑی ’سپر کامپلیکیشن‘ یعنی انتہائی پیچیدہ کا نام اِس لیے ملا کہ اِس میں وقت کے علاوہ کیلنڈر، چاند کے ادوار اور ہینری گریوز کے نیو یارک میں واقع اپارٹمٹنٹ سے رات کے آسمانی مناظر جیسی 24 خصوصیات موجود ہیں اور تمام خصوصیات کوگھڑی میں نصب نو سو پرزے سرانجام دیتے ہیں۔نیلام گھر سودیبیز کے مطابق کمپیوٹر کی مدد کے بغیر تیار کی جانے جانے والی یہ دنیا کی سب سے پیچیدہ گھڑی ہے۔یہ گھڑی ہینری گریوز کے خاندان کے بعد ایک عجائب گھر سے ہوتی ہوئی قطر کے شیخ سعود بِن الثانی تک پہنچی۔اْن کی موت کے بعد اب جب سْپرکامپلیکیشن جنیوا میں نیلام ہوئی ہے تو دنیا کے مشکل ترین گھڑی ہونے کے ساتھ ساتھ مہنگی ترین گھڑی بھی بن گئی ہے۔اس گھڑی کے خریدار کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔اس سے پہلے یہ گھڑی سال 1999 میں ایک کروڑ 10 لاکھ ڈالر میں فروخت ہوئی تھی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…