اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

جرمنی کا پاکستان سمیت دس ممالک کومحفوظ ملک قرار دینے کا فیصلہ،بڑی تعداد میں پاکستانیوں کو واپس بھیجاجائے گا

datetime 11  مارچ‬‮  2019 |

برلن( آن لائن )وفاقی جرمن حکومت پناہ کے مسترد درخواست گزاروں کی ملک بدریوں میں اضافہ کرنے کے لیے پاکستان سمیت دس مزید ممالک کو محفوظ ممالک کی فہرست میں شامل کرنا چاہتی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہاکہ جرمن حکومت دس مزید ممالک کومحفوظ ممالک کی فہرست میں شامل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

محفوظ ممالک کی فہرست میں پاکستان، بھارت، جیارجیا، آرمینیا، الجزائر، مراکش، تیونس، گیمبیا، آئیوری کوسٹ اور مالدووا کو شامل کیا جا سکتا ہے کیوں کہ ان ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کو جرمنی میں پناہ دیے جانے کی شرح پانچ فیصد سے بھی کم ہے۔جرمنی کی وفاقی حکومت میں شامل تینوں جماعتوں نے مخلوط حکومت کے لیے تیار کردہ معاہدے میں شمالی افریقی ممالک الجزائر، مراکش اور تیونس کو پہلے ہی محفوظ ممالک کی فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔اسی معاہدے میں یہ بھی لکھا گیا تھا کہ ایسے ممالک کو بھی نشاندہی کے بعد محفوظ ممالک کی فہرست میں شامل کیا جائے گا جن سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کو جرمنی میں پناہ دیے جانے کی شرح پانچ فیصد سے کم ہے۔جرمنی نے یورپی یونین کے رکن ممالک سمیت مشرقی یورپی اور متعدد افریقی ممالک کو محفوظ ممالک کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے۔ علاوہ ازیں جرمنی نے 32 ممالک کے ساتھ گزشتہ کئی برسوں سے ایسے معاہدے کر رکھے ہیں کہ وہ اپنے اپنے شہریوں کی وطن واپسی میں تعاون کریں گے۔علاوہ ازیں یورپی یونین نے بھی پاکستان سمیت 13 ممالک کے ساتھ پناہ کے مسترد درخواست گزاروں کی واپسی کے معاہدے کیے ہوئے ہیں۔محفوظ ملک قرار دیے جانے کے بعد ان ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کی سیاسی پناہ کی درخواستوں پر فیصلوں میں اور درخواستیں مسترد ہونے کی صورت میں ان جرمنی سے ملک بدریوں میں تیزی آ جاتی ہے۔

گزشتہ برس ہی مراکش، الجزائر اور تیونس سے تعلق رکھنے والے پناہ کے متلاشی افراد کی وطن واپسی کا عمل آسان بنانے کے لیے ان ممالک کے ساتھ معاہدے بھی کیے گئے تھے جس کے بعد جرمنی سے شمالی افریقی ممالک واپس بھیج دیے جانے والے پناہ کے مسترد درخواست گزاروں کی تعداد سن 2015 کے مقابلے میں چودہ گنا زیادہ رہی تھی۔گزشتہ ماہ صوبہ باویریا میں مہاجرین کے لیے سرگرم ایک تنظیم نے بتایا تھا

دسمبر 2018 میں ملک بدر کیے گئے پاکستانیوں میں ایسے افراد بھی شامل تھے جن کے پاس پاسپورٹ یا دیگر سفری دستاویزات نہیں تھیں۔ ان میں سے زیادہ تر افراد جرائم پیشہ تھے اور انہیں قید سے ہی نکال کر پاکستان بھیج دیا گیا تھا۔ اس سے قبل تک پاکستانیوں کی ملک بدری کے لیے عام طور پر سفری دستاویزات کی موجودگی لازمی تھی۔ اسی تناظر میں امدادی تنظیم جرمنی میں مقیم پناہ کے مسترد درخواست گزار پاکستانیوں کو متنبہ کرتے ہوئے لکھا کہ ملک بدریوں سے بچنے کے لیے پہلے ہی اپنے وکلا سے مشاورت کر لیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…