ہفتہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2026 

جرمنی کا پاکستان سمیت دس ممالک کومحفوظ ملک قرار دینے کا فیصلہ،بڑی تعداد میں پاکستانیوں کو واپس بھیجاجائے گا

datetime 11  مارچ‬‮  2019 |

برلن( آن لائن )وفاقی جرمن حکومت پناہ کے مسترد درخواست گزاروں کی ملک بدریوں میں اضافہ کرنے کے لیے پاکستان سمیت دس مزید ممالک کو محفوظ ممالک کی فہرست میں شامل کرنا چاہتی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہاکہ جرمن حکومت دس مزید ممالک کومحفوظ ممالک کی فہرست میں شامل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

محفوظ ممالک کی فہرست میں پاکستان، بھارت، جیارجیا، آرمینیا، الجزائر، مراکش، تیونس، گیمبیا، آئیوری کوسٹ اور مالدووا کو شامل کیا جا سکتا ہے کیوں کہ ان ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کو جرمنی میں پناہ دیے جانے کی شرح پانچ فیصد سے بھی کم ہے۔جرمنی کی وفاقی حکومت میں شامل تینوں جماعتوں نے مخلوط حکومت کے لیے تیار کردہ معاہدے میں شمالی افریقی ممالک الجزائر، مراکش اور تیونس کو پہلے ہی محفوظ ممالک کی فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔اسی معاہدے میں یہ بھی لکھا گیا تھا کہ ایسے ممالک کو بھی نشاندہی کے بعد محفوظ ممالک کی فہرست میں شامل کیا جائے گا جن سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کو جرمنی میں پناہ دیے جانے کی شرح پانچ فیصد سے کم ہے۔جرمنی نے یورپی یونین کے رکن ممالک سمیت مشرقی یورپی اور متعدد افریقی ممالک کو محفوظ ممالک کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے۔ علاوہ ازیں جرمنی نے 32 ممالک کے ساتھ گزشتہ کئی برسوں سے ایسے معاہدے کر رکھے ہیں کہ وہ اپنے اپنے شہریوں کی وطن واپسی میں تعاون کریں گے۔علاوہ ازیں یورپی یونین نے بھی پاکستان سمیت 13 ممالک کے ساتھ پناہ کے مسترد درخواست گزاروں کی واپسی کے معاہدے کیے ہوئے ہیں۔محفوظ ملک قرار دیے جانے کے بعد ان ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کی سیاسی پناہ کی درخواستوں پر فیصلوں میں اور درخواستیں مسترد ہونے کی صورت میں ان جرمنی سے ملک بدریوں میں تیزی آ جاتی ہے۔

گزشتہ برس ہی مراکش، الجزائر اور تیونس سے تعلق رکھنے والے پناہ کے متلاشی افراد کی وطن واپسی کا عمل آسان بنانے کے لیے ان ممالک کے ساتھ معاہدے بھی کیے گئے تھے جس کے بعد جرمنی سے شمالی افریقی ممالک واپس بھیج دیے جانے والے پناہ کے مسترد درخواست گزاروں کی تعداد سن 2015 کے مقابلے میں چودہ گنا زیادہ رہی تھی۔گزشتہ ماہ صوبہ باویریا میں مہاجرین کے لیے سرگرم ایک تنظیم نے بتایا تھا

دسمبر 2018 میں ملک بدر کیے گئے پاکستانیوں میں ایسے افراد بھی شامل تھے جن کے پاس پاسپورٹ یا دیگر سفری دستاویزات نہیں تھیں۔ ان میں سے زیادہ تر افراد جرائم پیشہ تھے اور انہیں قید سے ہی نکال کر پاکستان بھیج دیا گیا تھا۔ اس سے قبل تک پاکستانیوں کی ملک بدری کے لیے عام طور پر سفری دستاویزات کی موجودگی لازمی تھی۔ اسی تناظر میں امدادی تنظیم جرمنی میں مقیم پناہ کے مسترد درخواست گزار پاکستانیوں کو متنبہ کرتے ہوئے لکھا کہ ملک بدریوں سے بچنے کے لیے پہلے ہی اپنے وکلا سے مشاورت کر لیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…