ہفتہ‬‮ ، 20 جون‬‮ 2026 

حکومت کیلئے نئی پریشانی،آئی ایم ایف سے قرض نہ لینے کا شاخسانہ؟عالمی بینک کی جانب سے متوقع 2 ارب 30 کروڑ ڈالر سے زائد کی رقم بھی روک لی گئی

datetime 11  مارچ‬‮  2019 |

اسلام آباد( آن لائن ) غیر ملکی زرِ مبادلہ کی کمی کو پورا کرنے کے لیے سرکاری بینکوں کی جانب سے دوست ممالک سے مختصر مدت کے قرضے لینے کے باعث رواں مالی سال کے لیے عالمی بینک کی جانب سے متوقع 2 ارب 30 کروڑ ڈالر سے زائد رقم کی فراہمی میں رکاوٹیں حائل ہو گئیں اعلی سرکاری عہدیدار کا کہنا تھا کہ رواں سال کے دوران وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے 27 سے زیادہ ترقیاتی منصوبوں کو طے شدہ طریقہ کار کے تحت عالمی بینک سے فنڈز نہیں مل پارہے۔

ان کے مطابق رواں سال کی ادائیگیوں میں تاخیر کے سبب مالی سال 20۔2019 کے متوقع منصوبے متاثر ہوسکتے ہیں۔عہدیدار کا کہنا تھا کہ اس قسم کی تاخیر سے ناصرف عالمی بینک بلکہ قرض فراہم کرنے والے دیگر اداروں سے بھی ملنے والے فنڈز متاثر ہورہے ہیں اور ان ترقیاتی قرضوں میں زیادہ تر آسان قرضے ہیں جن ی واپسی کا شیڈول دہائیوں پر محیط ہے جبکہ ان میں رعایتی مدت بھی شامل ہے۔عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ عالمی بینک اور حکومت کے درمیان حالیہ ہفتوں میں کئی اجلاس ہوئے ہیں تاکہ رواں مالی سال کے لیے 2 ارب 30 کروڑ کے قرض کی ادائیگی میں آنے والی رکاوٹوں پر قابو پاتے ہوئے 40 منظور شدہ منصوبوں کے لیے متوقع 7 ارب 40 کروڑ ڈالر کے متوقع فنڈز کو یقینی بنایا جاسکے۔واضح رہے کہ ایک ارب 20 کروڑ ڈالر مالیت کے 12 منصوبوں کو پروکیورمنٹ مسائل اور بعض اوقات عالمی بینک اور پاکستان پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کی ہدایات میں تضاد کے سبب فنڈز نہیں مل پارہے۔دوسری جانب ایک ارب ڈالر مالیت کے 10 منصوبوں کو عالمی بینک سے طے شدہ فنڈز نہ ملنے کی وجہ یہ ہے کہ حکام نے پروجیکٹ ڈائریکٹر اور پروجیکٹ کے لیے خاص تکنیکی ماہر تعینات ہی نہیں کیا جبکہ 16 کروڑ ڈالر مالیت کے 5 منصوبوں کو فنڈز کی ادائیگی نہ ہونے کی وجہ بینک اکانٹس کی عدم موجودگی ہے۔خیال رہے کہ رواں مالی سال کے دوران پاکستان کو غیر ملکی امداد کی مد میں(جولائی سے دسمبر) کے دوران متوقع رقم میں سے اب تک محض 2 ارب 32 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی رقم موصول ہوئی ہے، بظاہر اس کی وجہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی عالمی مالیاتی فنڈز (آئی ایم ایف) سے مدد حاصل کرنے میں ناکامی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



فلم میں بھی ہارنے سے انکار


یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…