بدھ‬‮ ، 14 جنوری‬‮ 2026 

زیر زمین پانی کی سطح میں شدید کمی کے خطرے کی نشاندہی،آنیوالے سالوں میں پاکستان میں کن کن چیزوں کا قحط پڑنیوالا ہے؟خبر دار کردیا گیا

datetime 9  مارچ‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)وزارت موسمیاتی تبدیلی نے ملک میں زیر زمین پانی کی سطح میں شدید کمی کے خطرے کی نشاندہی کردی ہے ،فصلوں کیلئے لگائے جانے والے ٹیوب ویلز اور گھریلو استعمال کیلئے ضرورت سے زائد پانی نکالنے کی وجہ سے زیر زمین پانی کی سطح میں ہر سال ایک میٹر کی کمی واقع ہورہی ہے ،پانی کی کمی کی وجہ سے آنے والے سالوں میں گندم ،چاول اور کپاس سمیت دیگر فصلوں میں کمی ہوسکتی ہے ۔

ملک میں شدید موسم کے اثرات کی وجہ سے ملکی سطح پر لائیو سٹاک کی پیداوار میں بھی 20سے 30فیصد تک کمی واقع ہوسکتی ہے ۔وزارت موسمیاتی تبدیلی کی جانب سے جاری ہونے والے دستاویزات کے مطابق پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے زیر زمین پانی کی سطح میں تیزی سے کمی واقع ہورہی ہے اورغیر یقینی بارشوں اورپانی محفوظ بنانے کے ذرائع نہ ہونے کی وجہ سے زیر زمین پانی کی سطح میں اضافہ بھی نہیں رہا ہے ۔دستاویزات کے مطابق ملک بھر میں فصلوں اور گھریلوں استعمال کیلئے ضرورت سے زیادہ پانی نکالنے کی وجہ سے زیر زمین پانی کی سطح میں ہر سال ایک میٹر تک کمی ہورہی ہے ۔دستاویزات کے مطابق ملک بھر میں پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے 600سے 700فٹ کی گہرائی میں ٹیوب ویل نصب کئے جارہے ہیں جس کی وجہ سے زیر زمین پانی مزید کم ہورہا ہے اور گذشتہ 59سالوں کے دوران ملک میں پانی کی سطح میں 61فٹ کی کمی واقع ہوچکی ہے۔ دستاویزات کے مطابق زیر زمین پانی کی سطح میں شدید کمی کی وجہ سے فصلوں کو کاشت کرنے کے موسم کے دورانیہ میں کمی واقع ہونے کے ساتھ ساتھ پانی کی ضروریات میں بے حد اضافہ ہوا ہے۔

اس کے علاوہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے درجہ حرارت میں اضافہ بھی فصلوں کیلئے پانی کی ضروریات میں اضافہ اور پیداوار میں کمی کا باعث بن رہا ہے جس کی وجہ سے گندم کی فصل کو کاشت کرنے کا دورانیہ 21سے 29روز تک کم ہوا ہے جبکہ فی ایکڑ پیداوار میں بھی 7سے 9فیصد کمی واقع ہوئی ہے اسی طرح باسمتی چاول اور کپاس کیلئے بھی پانی کے استعمال میں اضافے اور پیداوار میں کمی کا خدشہ ہے۔

دستاویزات کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات نہ صرف فصلوں پر مرتب ہورہے ہیں بلکہ ملک میں لائیو سٹاک بھی اس خطرے سے دوچار ہیں اور آنے والے چند سالوں میں ملک بھر میں شدید گرمی ،غذائی قلت اور شدید بارشوں کے بعد پیدا ہونے والے بیماریوں کی وجہ سے لائیو سٹاک کی پیداوار میں بھی 20سے 30فیصد تک کمی واقع ہوسکتی ہے جس کی وجہ سے ملک میں گوشت ،دودھ اور پولٹری کے شعبوں میں بحران پیدا ہونے اور قیمتوں میں شدید اضافے کے خطرات بھی لاحق ہوسکتے ہیں۔

موضوعات:



کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…