پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

’’کرپٹ لوگ ملک لوٹ کرکھا گئے کوئی ہاتھ نہیں ڈالتا‘‘ نیب سے اللہ ہی پوچھے گا، کوئی ادارہ نہیں جو نیب کا آڈٹ کرے؟ سپریم کورٹ شدید برہم

datetime 6  مارچ‬‮  2019 |

اسلام آباد (آن لائن)این آئی سی ایل کرپشن کیس میں جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کرپٹ لوگ ملک لوٹ کرکھا گئے کوئی ہاتھ نہیں ڈالتا، نیب سے اللہ ہی پوچھے گا، کوئی ادارہ نہیں جو نیب کا آڈٹ کرے؟ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے این آئی سی ایل کرپشن کیس کی سماعت کی۔

سماعت میں جسٹس گلزار احمد نے سوال کیا محسن حبیب کوگرفتار کیوں نہیں کیاگیا اتنا بڑاکیس ہے اور محسن حبیب آرام سے گھوم رہا ہے، جس پر وکیل نیب نے بتایا ان کو نیب نے طلب کیا تھا ۔محسن حبیب لاہور میں ہیں۔جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے نیب نے ان کو چائے پلائی اور کیک کھلائے ہوں گے جس پر وکیل نیب نے کہا سپریم کورٹ کا حکم تھا ان کو گرفتار نہ کیا جائے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سپریم کورٹ کا حکم صرف 2دن کے لئے تھا. دوران سماعت میں جسٹس گلزار احمد نے کہا نیب کوآخرتکلیف اور پریشانی کیا ہے، نیب کیا کر رہا ہے،ہر چیز میں گڑ بڑ ہے، نیب کا آنگن ہی ٹیڑھا ہے، بااثرافراد پرہاتھ ڈالنے سے ڈرتے ہیں.جسٹس گلزار احمد کا ریمارکس میں کہا کہ کرپٹ لوگ ملک لوٹ کرکھا گئے کوئی ہاتھ نہیں ڈالتا، نیب سے اللہ ہی پوچھے گا، کوئی ادارہ نہیں جو نیب کا آڈٹ کرے؟ سپریم کورٹ نے آئندہ سماعت پر نیب اور محسن حبیب کو طلب کرتے ہوئے سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی۔خیال رہے این آئی سی ایل کے سابق چیئرمین ایاز خان نیازی سمیت دیگر ملزمان پرزمینوں کی خرید وفروخت میں کروڑوں روپے کی کرپشن کا الزام ہے. واضح رہے نیب نے این آئی سی ایل اور جے ایس انویسٹمنٹ کیس کی تحقیقات کے لئے عدالت سے اجازت مانگ لی رپورٹ کے مطابق دونوں اداروں نے دو ارب روپے کی سرمایہ کاری کرکے قومی خزانے کو 25کروڑ 52 لاکھ کا نقصان پہنچایا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…