اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

سعودیہ کے خلاف جرمن پابندی کے بعد ایئر بس کے طیاروں کے پرزہ جات بدلنے کا فیصلہ

datetime 1  مارچ‬‮  2019 |

ریاض(این این آئی)ہوائی جہاز بنانے والی بین الاقوامی شہرت یافتہ کمپنی ایئربس نے کمپنی سی 295 ماڈل کے ملٹری ترانسپورٹ طیارے کا ازسر نو ڈیزائن کرنے جا رہی ہے تاکہ اس طیارے میں جرمنی کے تیار کردہ ان تمام پرزہ جات کو نکال دیا جائے تاکہ برلن کی طرف سے سعودی عرب کو اسلحہ برآمد کرنے پر پابندیوں کے بعد کمپنی کو درپیش مشکلات سے نکالا جاسکے۔ یہ تمام پرزہ جات اسپین میں جمع کیے جائیں گے۔

عرب ٹی وی کے مطابق ایئربس کے چیف ایگزیکٹوٹوم انڈرز نے بتایا کہ کمپنی ایسی مصنوعات تیار کرنے پرغور کررہی ہے جن میں جرمن ساختہ پرزہ جات شامل نہ ہوں اور کمپنی کو سعودی عرب کو اسلحہ کی برآمد پر عاید کردہ جرمن پابندیوں کی وجہ سے مشکلات سے نکالا جاسکے۔ ان پابندیوں کی وجہ سے سعودی عرب، فرانس اور اسپین نے بھی مایوسی کا اظہار کیا ہے۔جرمنی کی طرف سے ایئربس کے لیے یورپی یونین سے باہر یا نیٹو ممالک کو اسلحہ کی درآمد کے حوالے سے عاید کردہ پابندیاں حلق کا کانٹا ہیں۔ یہ پابندیاں جرمنی کی سوشلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی اور جرمن چانسلر انجیلا میریکل کے ساتھ منسلک ان کے چھوٹے اتحادیوں کے اعتراضات کی وجہ سے عاید کی گئی ہیں۔جلد بازی میں کیا گیا فیصلہ گذشتہ برس اکتوبر میں جرمنی نے اچانک سعودی عرب کو اسلحہ کی فراہمی روکنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ جلد بازی میں کیا گیا جس کی بنیادی وجہ ترکی میں سعودی عرب کے قونصل خانے میں صحافی جمال خاشقجی کا قتل بنا تھا۔ حالانکہ جمال خاشقجی کے قتل کے حوالے سے سعودی عرب نے جامع تحقیقات شروع کیں اور ملزمان کو عدالتوں میں پیش کیا گیا۔چونکہ موجودہ معاہدے برلن کو اسلحہ کی برآمد روکنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ان میں ایئربس کے ہاں تیار کردہ فوجی طیاروں کے پرزہ جات بھی شامل ہیں۔ ایئربس نے اپنے فوجی طیاروں میں استعمال ہونے والے جرمن ساختہ پرزہ جات کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ فیصلہ جرمنی اور ایئربس کے درمیان ہونے والے معاہدوں کی خلاف ورزی کے زمرے میں نہیں آتا۔ایئربس کے ایک ذمہ دار ذریعے نے بتایا کہ کمپنی جن پرزہ جات کو تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے وہ کوئی زیادہ نہیں۔ ان اسپیئرپارٹس کی جہازوں میں استعمال کل تعداد صرف 4 فی صد ہے۔

ان میں طیاروں کی لینڈنگ کیدوران استعمال ہونے والی انتباہی لائٹس شامل ہیں جن کی تبدیلی کوئی زیادہ مشکل نہیں ہے۔ایئربس کو 28 ملکوں کی طرف سے 208 فوجی ٹرانسپورٹ طیاروں کے آڈرز ملے ہیں۔ اس وقت C295 ماڈل کے 166 طیارے مختلف ممالک کے پاس موجود ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…