جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

کراچی میں سپرمارکیٹس کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا فیصلہ

datetime 24  فروری‬‮  2019 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے دو ہزار مہنگی جائیدادیں خریدنے والوں کو نوٹسز جاری کرنے اور نئی غیر رجسٹرڈ شدہ سپر مارکیٹس کو بھی ٹیکس نیٹ میں لانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لیے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے دو ہزار مہنگی جائیدادیں خریدنے والوں کو نوٹسز جاری کرنے کی تیاری کرلی ہے۔

اقدام براڈ ننگ آف ٹیکس بیس کے تحت کیا جا رہا ہے۔ نئی غیر رجسٹرڈ شدہ سپر مارکیٹس کو بھی ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے حکمت عملی کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ڈیفنس، کلفٹن اور پوش علاقوں میں قائم چائے کارنر بھی ریڈ لسٹ میں شامل ہیں۔ ایف بی آر کے مطابق 16 ہزار تنخواہ دار افراد جو فائلر نہیں اور رجسٹریشن نہیں کروائی انہیں نوٹس دیے جائیں گے۔ زمزمہ، حیدری، کھڈا مارکیٹ اور کمرشل ایریاز میں نادہندگان کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا۔ خیال رہے اس سے قبل وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت ریونیو اکٹھا کرنے پر حکومتی اقدامات سے متعلق اجلاس ہوا تھا۔ چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس اکٹھا کرنے اور ٹیکس بیس میں اضافے سے متعلق آگاہ کیا تھا۔ چیئرمین کے مطابق ہائی نیٹ ورتھ افراد کے 6 ہزار سے زائد کیسز زیر غور ہیں۔ مجموعی طور پر 2 ارب سے زائد کی آمدن متوقع ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا تھا کہ معلومات اور تحقیقات کے 66 کیسز پر کام جاری ہے، اب تک 1.5 ارب کی وصولی ہوچکی ہے۔ اس موقع پر وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ قابل وصول ٹیکسز کو اکٹھا کرنے کے لیے جدید طریقہ کار بروئے کار لایا جائے، نادہندگان کو ٹیکس نیٹ میں لانے ٹیکس دہندگان کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ٹیکس چور ملک اور قوم کے دشمن ہیں کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ وزیر اعظم نے ٹیکس چوری میں سہولت دینے والے عناصر کے خلاف کارروائی کی بھی ہدایت کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…