منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

پلوامہ بھارتیوں کیلئے قبرستان بن گیا! میجر سمیت مزید کتنے بھارتی فوجی مارے گئے؟ہندوستان میں قیامت برپا

datetime 18  فروری‬‮  2019 |

پلوامہ (آن لائن)بھارت کے زیر تسلط کشمیر کے علاقے پلوامہ میں جاری سرچ آپریشن کے دوران مسلح مقابلے میں ایک میجر سمیت 5 بھارتی فوجی ہلاک اوردو شہریو ں کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق جنوبی کشمیر کے علاقے پلوامہ میں انڈین فورسز نے مسلح افراد کی موجودگی پر علاقے کو گھیرے میں لے کر مشترکہ آپریشن کا آغاز کیا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ آپریشن رات سے جاری تھا اور اس دوران بھارتی فورسز نے نہ صرف علاقے کو گھیرے میں لے رکھا تھا بلکہ گھر گھر تلاشی بھی جاری تھی کہ صبح فائرنگ کا آغاز ہوا۔بھارتی میڈیا کا کہنا تھا کہ فائرنگ کے واقعے میں ایک میجر سمیت 4 انڈین فوجی زخمی ہوئے تھے، جنہیں آرمی کے 92 بیس ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کی۔ایک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ ‘فائرنگ گزشتہ شب آپریشن کے ابتدائی آدھے گھنٹے میں شروع ہوئی اور پھر تھم گئی، ان کا مزید کہنا تھا کہ علاقے میں سرچنگ کا عمل جاری ہے۔انہوں نے بتایا کہ بعد ازاں پیر کی صبح فائرنگ کا دوبارہ آغاز ہوا جس کے نتیجے میں ایک شہری جاں بحق ہوگیا، مقامی افراد کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ علاقے میں فریقین کی جانب سے شدید فائرنگ کی جارہی ہے۔ادھر ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق کشمیر کے علاقے پلوامہ میں حالیہ حملے میں ہلاک ہونے والے پانچوں بھارتی فوجی ہیں، جن میں ایک میجر بھی شامل ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ مشترکہ آپریشن بھارتی فوج کے 55 آر آر، سی آر پی ایف اور ایس او جی کے اہلکاروں پر مشتمل مشترکہ ٹیم نے کیا۔رپورٹ میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی شناخت میجر ڈی ایس ڈونڈیل، ہیڈ کانسٹیبل سیو رام، آجے کمار اور ہری سنگھ کے ناموں سے کی گئی ۔

جبکہ گلزار محمد نامی فوجی واقعے میں شدید زخمی ہوا تھا تاہم اس نے ہسپتال میں دوران علاج دم توڑ دیا۔واقعے میں متاثرہ مکان کے 2 مالکان، جہاں مسلح افراد کی موجوگی کی اطلاع تھی، جاں بحق ہوگئے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارتی فورسز نے پلوامہ کے علاقے میں ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی میں ایک کشمیری نوجوان کو قتل کردیا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ مقتول کی شناخت مشتاق احمد کے نام سے ہوئی ہے۔

گزشتہ روز بھارت کی وزارت داخلہ نے 5 کشمیری حریت رہنماؤں، جن میں میر واعظ عمر فاروق، عبدالغنی بھٹ، بلال لون، ہاشم قریشی، فضل الحق قریشی اور شبیر شاہ شامل ہیں، کی سیکیورٹی واپس لے لی تھی۔خیال رہے کہ 14 فروری 2019 کو مقبوضہ کشمیر میں مبینہ طور پر خود کش دھماکے کے نتیجے میں 44 بھارتی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔جس کے بعد بھارتی حکومت اور ذرائع ابلاغ نے بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر الزامات لگانے کا سلسلہ شروع کردیا تھا۔بعد ازاں پاکستان نے بھارت کے زیر تسلط کشمیر کے علاقے پلوامہ میں ہونے والے حملے کے عناصر کو پاکستان سے جوڑنے کے بھارتی الزام کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کروایا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…