پیر‬‮ ، 16 فروری‬‮ 2026 

’’20کروڑ مالیت کا نالہ ‘‘رمضان شوگر مل میں شہباز شریف کی ضمانت ،نئے قانونی سوالات نے جنم لے لیا 

datetime 17  فروری‬‮  2019 |

اسلام آباد (آن لائن) لاہور ہائی کورٹ نے رمضان شوگر مل میں شہباز شریف کی ضمانت منظور کرکے دیگر شوگرملوں کو بھی حکومت سے بیس کروڑ روپے کے فنڈز حاصل کرنے کی راہ ہموار کردی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق شہباز شریف نے رمضان شوگر مل کا زہریلا مادہ کو تلف کرنے کیلئے بیس کروڑ روپے سے ایک نالہ تعمیر کرایا تھا یہ فنڈز چنیوٹ ضلع کے پبلک کاموں کے لئے مختص فنڈز سے منہا کئے گئے جس کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔

پنجاب کی دیگر شوگر ملوں جن کی تعداد پچاس سے بھی زائد ہے ایسے زہریلے مادہ کو تلف کرنے کیلئے ذاتی فنڈز سے یہ نالے تعمیر کرائے تھے جبکہ رمضان شوگر مل کے مالکان نے یہ نالہ پبلک فنڈز سے تعمیر کیا جس پر مہر اب لاہور ہائی کورٹ نے ثبت کردی ہے۔ شوگر مل مافیا کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ عدالت عالیہ کے فیصلے کے تحت اب ہم بھی حکومت سے بیس کروڑ روپے کا مطالبہ کریں گے کیونکہ آئین کے تحت تمام شہریوں کو مادی حقو حاصل ہیں راقم نے یہ نالہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے یہ نالہ رمضان شوگر مل کے زہریلے مادے کو ٹھکانے لگانے کیلئے بنایا گیا تھا اور اس نالہ سے مقامی لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں ہے یہ نالہ صرف اور صرف شوگر مل کے گندے اور زہریلے مادہ کیلئے بنایا گیا جس کی تمعیر پر پبلک فنڈز کا بے دریغ استعمال ہوا ہے لاہور ہائی کورٹ آکر شریف خاندان مافیا کو یہ فائدہ دیتی ہے تو دیگر مل مالکان بھی بیس کروڑ حکومت پنجاب سے وصول کرنے کے حق بجانب ہوں گے ۔ عدالت عالیہ لاہور کے فاضل جج کو انصاف کو یقینی بنانے کیلئے خود موقعہ پر جاکر جائزہ لینا ہوگا تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔ عدالت عالیہ کے فاضل جج نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ اگر تادیبی کارروائی ہوگئی تو دیگر پارلیمنٹرین ترقیاتی منصوبوں سے باز رہیں گے فاضل جج کو عوامی مقاصد کیلئے ترقیاتی منصوبوں اور شریف خاندان کے مفاد کیلئے بنائے گئے منصوبوں میں اختلاف کرنا ہوگا تاکہ ملک میں انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں یہ بیس کروڑ چنیوٹ کی عوام کا حق تھا جس پر شریفوں نے ڈاکہ ڈال کر لوٹا ہے اور ہمرے جج اب اس ڈاکہ کو قانونی شکل دے رہے ہیں نیب کی اپیل پر سپریم کورٹ کے فاضل جج عوامی مقاصد کیلئے شروع کئے گئے ترقیاتی منصوبے اور شریفوں کے مفاد کیلئے شروع کئے گئے ترقیاتی منصوبوں میں ضرور تفریق کریں گے تاکہ انصاف کے بنیادی تقاضے پورے ہوسکیں۔



کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…