منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

سندھ حکومت کنگال ہوگئی،صورتحال انتہائی تشویشناک،خزانہ خالی

datetime 9  فروری‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)سندھ حکومت کنگال ہوگئی۔ وفاق کی جانب سے فوری رقم نہ ملی تو بحران مزید سنگین ہو جائے گا۔ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل بھی مشکوک نظر آرہی ہے جبکہ اخبارات اور چینلز کو ہونے والی ادائیگیاں بھی ممکن نظر نہیں آرہیں۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے سندھ کے سالانہ شیئر میں 104 ارب روپے کٹوتی پر سندھ حکومت شدید مالی بحران سے دوچار ہوگئی اور خزانہ بالکل خالی ہوگیا ہے۔

محکمہ خزانہ سندھ نے سرکاری اکانٹنٹ کو تنخواہوں اور پنشن کے سوا تمام ادائیگیاں بند کرنے کا حکم دے دیا۔ ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز کا اجرا، نئی گاڑیوں کی خریداری، الانسز، مرمت، سابقہ جاری ترقیاتی منصوبوں کی ادائیگیوں سمیت ہر قسم کے بلوں کی ادائیگی روک دی گئی، معتمد ترین ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے سندھ کے سالانہ شیئر میں 104 ارب روپے کی کٹوتی اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے اوور ڈرافٹ کی مقررہ حد 20 ارب روپے سے زائد دینے سے انکار پر حکومت سندھ کنگال ہوگئی ہے اور اب خزانے میں حکومت چلانے کے لیے بھی رقم نہیں ہے۔ محکمہ خزانہ سندھ کے مطابق وفاقی حکومت نے آگاہ کیا ہے کہ ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس وصولی کا سالانہ ہدف پورا نہ ہونے پر صوبائی حکومتوں کے شیئر میں کٹوتی کا فیصلہ کیا گیا اور سندھ حکومت کو رواں مالی سال 104 ارب روپے کٹوتی کاسامنا کرنا ہوگا، محکمہ خزانہ سندھ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کے اس اقدام کے بعد اسٹیٹ بینک نے بھی اوور ڈرافٹ کی سہولت 20 ارب روپے تک محدود کردی ہے۔ مالی مشکلات کے پیش نظر سندھ حکومت نے اپنے اخراجات پر نظرثانی کا فیصلہ کرتے ہوئے تنخواہوں اور پنشن کے سوا تمام ادائیگیاں بند کرنے کا حکم دے دیا ہے جبکہ بعض محکموں کے اکانٹس بھی بند کر دیے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں وفاق نے سندھ حکومت کو صوبے میں جاری وفاقی ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز کا اجرا بھی بند کر دیاہے۔

محکمہ خزانہ سندھ کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے گزشتہ سال 90 ارب کی کٹوتی کی تھی جبکہ رواں مالی سال 2018-19 میں 104 ارب روپے کم کر دیے گئے جو سندھ حکومت کے لیے معاشی دھچکے سے کم نہیں، وزیراعلی ہاس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مالی بحران پر وزیراعلی سید مراد علی شاہ نے قومی مالیاتی کمیشن کے اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کے سامنے صوبائی حکومت کے شیئر میں کٹوتی اور ٹیکسوں کی ادائیگی سندھ حکومت کے حوالے کرنے کامعاملہ اٹھایا تھا مگر وفاقی حکومت کی طرف سے اس حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں کی گئی۔ اگر وفاق کی جانب سے فوری رقم فراہم نہ کی گئی تو بحران اور سنگین ہو جائے گا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعلی سندھ نے اس سلسلے میں براہ راست وزیراعظم سے رابطہ کرکے انہیں مشکلات سے آگاہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…