منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

دشوار گزار حساس علاقوں میں تیل وگیس کے ذخائر کی تلاش،حکومت نے بڑا فیصلہ کرلیا

datetime 29  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد( آن لائن ) حکومت نے ملک کے دشوار گزار اور حساس علاقوں میں تیل اور گیس کے ذخائر کی بغیر کسی رکاوٹ تلاش کو یقینی بنانے کے لیے تقریبا 50 ہزار سیکیورٹی اہلکاروں کی خصوصی فورس میں اضافے کے لیے کام کا آغاز کردیا ہے۔ان دشوار گزار اور حساس علاقوں میں خاص طور بلوچستان کے علاقے شامل ہیں جہاں انتہائی حساس زون ہونے کی وجہ سے تقریبا 3 دہائیوں سے رسائی ممکن نہیں۔ اس بات کا انکشاف پیٹرولیم ڈویژن کے ایڈیشنل سیکریٹری انچارج میاں اسد حیاالدین نے

سینیٹ پینل کے سامنے کیا، جہاں انہوں نے بتایا کہ فروری کے وسط جبکہ مارچ اور اپریل سے بالترتیب زرغون اور بلاک 28 کے علاقوں میں ذخائر کی تلاش کا کام شروع ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ سدرن کمانڈ، فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی)، صوبائی حکومت اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ اس معاملے پر بات چیت ہوئی ہے اور ایک ہفتے کے دوران ہی یہ معاملہ وزیر اعظم کی منظوری کے لیے ایک خصوصی اجلاس میں رسمی طور پر سامنے رکھا جائے گا۔اسد حیات الدین کا کہنا تھا کہ 50 ہزار سیکیورٹی فورسز کے ساتھ ہم 7 سے 8 سال میں (تمام نو گو ایریاز میں) ذخائر کی تلاش اور کھدائی کا سروے مکمل کرنے کے قابل ہوجائیں گے، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ 200 سے 250 سیکیورٹی اہلکاروں کی موجودہ فورس کے ساتھ یہی کام کرنے میں 780 سال لگیں گے۔انہوں نے بتایا کہ پیٹرولیم ڈویژن نے پیٹرولیم مصنوعات کی تلاش کے لیے ضروری کاموں اور دیگر ضروری سامان کی مکمل تفصیلات جمع کی ہیں تاکہ وہ فوری طور پر متحرک ہوجائیں اور جہاں سب سے زیادہ سیکیورٹی کلیرنس کی ضروری ہے اسے یقینی بنائیں۔ایڈیشنل سیکریٹری انچارج کا کہنا تھا کہ ایک مرتبہ حکومت، مجوزہ خصوصی فورس کے ذریعے سیکیورٹی فراہم کرنے کی ذمہ داری لے، تو پیٹرولیم کمپنیوں کے تقریبا 14 ارب روپے کے سالانہ سیکیورٹی اخراجات کو مزید ذخائر کی تلاش کے

سامان کی فراہمی کے لیے بہتر طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ اگرچہ مجموعی طور پر سیکیورٹی صورتحال بہتر ہوئی تاہم پیٹرولیم ڈویژن سمیت متعلقہ انتظامیہ اب ہائیڈروکاربن امکانات اور ضروری سیکیورٹی آپریشن کے ساتھ چھوٹے حصوں میں اہداف شدہ سروے کر رہی ہے۔اسد حیا الدین کا کہنا تھا کہ ایف سی اور سدرن کمانڈ نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ایک ہفتے میں زرغون علاقے کے لیے کلیئرنس دیں گے اور اس کے بعد بلوچستان کے ضلع کوہلو کے 6 ہزار 2 سو اسکوائر کلومیٹر سے زائد رقبے پر پھیلے بلاک 28 کے لیے کلیئرنس دی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…