پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

اوپن ویزاپالیسی، عمران خان نے کس کا آئیڈیا چرایا؟بھانڈا پھوٹ گیا،حیران کن انکشافات

datetime 27  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سابق وزیر اعظم شاہد خاقا ن عباسی کا کہنا ہے کہ اوپن ویزا پالیسی میرا آئیڈیا تھا‘اسے این ایس سی میں لایا تھا، لیکن چند اہلکاروں نے اعتراض کیا۔ادھر سابق وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ پاکستان کو سیاحتی مقام کی حیثیت سے کھولنے کی منظوری ن لیگ کے دور حکومت میں دی گئی تھی۔

روزنامہ جنگ  کے مطابق سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت نے دشمن ممالک کے سوا تمام ممالک کو ویزا آن ارائیول کی سہولت دینے کی تجویز دی تھی ۔تاہم اس پر چند اہلکاروں نے اعتراض اٹھایا تھا۔شاہد خاقان عباسی نے  بتایا کہ جب میں وزیر اعظم تھا تو ہم نے قومی سیکورٹی کمیٹی کے اجلاسوں میں تقریباً4مرتبہ اوپن ڈور پالیسی پر بات کی تھی ، لیکن کچھ چند اہلکاروں نے اس پر اعتراض کیا تھااور اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔تاہم سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انہیں خوشی ہے کہ بالآخر موجودہ حکومت نے 50ممالک کے لیے ویز اآن ارائیول کی اجازت دے دی ہے اور تمام اداروں نے اسے قبول کرلیا ہے۔انکا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت اس بات کا کریڈٹ لے سکتی ہے لیکن نئی پالیسی پر مزید کوئی شرط عائد کئے عمل درآمد ہونا چاہیئے ۔اس عمل کو بغیر کسی پیچیدگی کے آسان بنایا جانا چاہیئے۔سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ میں ان سے درخواست کرتا ہو ں کہ ماسوائے چند ممالک جیسا کہ بھارت ، اسرائیل، افغانستان اور بنگلا دیش کے تمام ممالک کے لیے آن ارائیول ویزا سہولت دینی چاہیئے، بحیثیت وزیر اعظم میں نے یہی تجویز دی تھی لیکن کچھ اہلکاروں نے اعتراض کیا تھا ، ہم نے کچھ اعتراضات ختم کردیئے تھے اور ہماری حکومت کی مدت ختم ہونے تک یہ عمل جاری تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سہولت سے نہ صرف ملک کی معیشت بہتر ہوگی بلکہ سیاحت کو بھی فروغ ملے گا اور پاکستان سے متعلق جو غلط تاثرات قائم ہیں وہ بھی ختم ہوں گے۔175ممالک کے لیے ای۔ویزا پالیسی سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ اسے بھی ویزا آن ارائیول پر تبدیل کیاجانا چاہیئے کیوں کہ ای۔ویزا سسٹم کو سنبھالنا مشکل ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جب نواز شریف وزیر اعظم تھے تب بھی میں نے اس تجویز پر زور دیا تھا لیکن اس عمل کا آغاز میرے وزارت عظمیٰ کے دور میں ہوا ۔

مختلف اداروں اور وزارتوں نے تجاویز دی تھیں اور کچھ نے اعتراض بھی کیا تھا ۔سابق وزیر داخلہ احسن اقبال نے بھی ہفتے کے روز پی ٹی آئی کے اس دعویٰ کی تردید کی کہ عمران خان کی حکومت نے یہ نئی ویزا پالیسی متعارف کرائی ہے۔انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ نئی ویزا پالیسی کو پی ٹی آئی حکومت نئے اقدام کے طور پر پروموٹ کررہی ہے، حالاںکہ پاکستان کو سیاحتی مقام کی حیثیت سے کھولنے کی منظوری ن لیگ کے دور حکومت میں ہونے والے این ایس سی کے آخری اجلاس میں دی گئی تھی۔یہ پہلا موقع نہیں ہے جب پی ٹی آئی حکومت نے ن لیگ حکومت کے اقدامات کو نئے آئیڈیا کے طور پر پیش کیا ہو، گزشتہ چھ ماہ کے دوران موجودہ حکومت نے متعدد ایسے اقدامات کا اعلان کیا ہے جو دراصل گزشتہ حکومت کی اختراع تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…