جمعرات‬‮ ، 05 مارچ‬‮ 2026 

ماضی کی مشہور اداکارہ روحی بانو کے انتقال پر شوبز حلقوں کی جانب سے اظہار تعزیت

datetime 26  جنوری‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی ) ماضی کی مشہور اداکارہ روحی بانو کے انتقال پر شوبز حلقوں کی جانب سے تعزیت کا اظہار کیا گیا ہے۔ سینئر اداکار راحت کاظمی نے کہا کہ میں نے ان کے ساتھ ایک ڈرامہ سیریل کی تھی اور اس دوران ان کو قریب سے جاننے کا موقع ملا و ہ انتہائی پروفیشنل اداکارہ تھیں۔

جو اپنے کردار میں ڈوب کر فن کا مظاہرہ کرتی تھیں ،ان کے انتقال سے شوبز ایک عہد ختم ہوگیا ۔ غلام محی الدین نے کہاکہ روحی بانو صرف ایک ہی تھیں ان جیسی کوئی دوسری اداکارہ نہیں دیکھی ا ن کو اداکاری کرنے میں مہارت حاصل تھی وہ جو بھی کردار کرتی اس کا نقش دیکھنے والوں کے ذہن میں چھا جاتا مگر آج وہ ہمیں چھوڑ کر چلی گئی ہیں مگر ان کا فن ہمیشہ زندہ رہے گا ۔اداکار توقیر ناصر نے کہاکہ روحی بانو جیسے فنکار روز روز پیدا نہیں ہوتے اور میں نے ان کے ساتھ جتنا بھی کام کیا ہے وہ میرے لئے یادگار ہے مگر جن حالات میں ان کا انتقال ہوا اس سے مجھے دلی رنج ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ فنکاروں کو آخری عمر میں ہماری اور ریاست کی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ معروف رائٹر مستنصر حسین تارڑ نے کہا کہ اچھا ہوا کہ روحی بانو مر گئی کیونکہ وہ ایک قرب کے عالم میں زندگی بسر کررہی تھیں ۔جب سے انہوں نے اداکاری شروع کی اس وقت سے ہی ان کو مصیبتوں اور پریشانیوں کاسامنا کرنا پڑا ان کے آس پا س ایسے ایسے لوگ تھے جو ان کو عزیتیں دیتے تھے وہ انتہائی حساس دل کی مالک تھیں ۔ آخری عمر میں نوجوان بیٹے کے قتل سے ختم ہوگئیں اور لوگوں نے اس حد تک ظلم کیا کہ ان کو پاگل خانے تک پہنچا دیا۔ انہوں نے کہا کہ روحی بانو کے حوالے سے میں صرف یہی کہتا ہوں کہ’’کتاب عمر کا ایک اور باب ختم ہوا، شباب ختم ہوا اک عذاب ختم ہوا‘‘ ۔اسٹیج ڈرامہ ڈائریکٹر قیصر جاوید نے کہاکہ روحی بانو نے بے شمار اسٹیج ڈرامے بھی کئے ہیں اور میرے بہت سارے ڈراموں میں انہوں نے اداکاری کی ۔ روحی بانو جتنی خوبصورت تھیں اس سے زیادہ ان کا دل خوبصورت تھا وہ کسی کو پریشان دیکھ کر خودر ونا شروع ہوجاتی تھیں مگر افسوس کے ہم ان کے لئے کچھ نہیں کرسکے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان کے انتقا ل سے فن اداکاری کا ایک باب بند ہوگیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



عربوں کا کیا قصورہے؟


ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…