بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

ایک عام عادت آپ کو جگر کے امراض کا شکار بنا سکتی ہے

datetime 24  جنوری‬‮  2019 |

امریکا (مانیٹرنگ ڈیسک) جگر انسان جسم کے ان حصوں میں سے ایک ہے جن کو عام طور پر اس وقت تک سنجیدہ نہیں لیا جاتا جب تک وہ مسائل کا باعث نہیں بننے لگتے اور کچھ لوگوں کے لیے بہت تاخیر ہوجاتی ہے۔ جگر کا درست طریقے سے کام کرنا متعدد وجوہات کے باعث اچھی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے تاہم اس کی بڑی اہمیت یہ ہے کہ ہم جو کچھ بھی کھاتے ہیں۔

اسے ہضم کرنے کے لیے جگر کی ضرورت ہوتی ہے۔ تو اس میں کسی بھی قسم کی خرابی یا بیماری کی صورت میں جو علامات سامنے آتی ہیں وہ بھی اکثر افراد نظر انداز کردیتے ہیں۔ مگر ایک عام عادت آپ کو جگر کے امراض کا شکار بنا سکتی ہے، اور وہ ہے میٹھی اشیاءخصوصاً مشروبات کا زیادہ استعمال۔ طبی جریدے دی جرنل آف دی امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ میٹھے مشروبات اور غذاﺅں کا بہت زیادہ استعمال جگر پر چربی بڑھانے کا باعث بنتا ہے جس کے نتیجے میں امراض قلب، ذیابیطس ٹائپ ٹو، جگر کے کینسر یا خراشوں جیسے جان لیوا امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔ ایموری یونیورسٹی اسکول آف میڈیسین کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ بدقسمتی سے لوگ غذائی عادات پر زیادہ توجہ مرکوز نہیں کرتے ، جس کے نتیجے میں جگر کے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھتا ہے۔ محققین کا کہنا تھا کہ سافٹ ڈرنکس، فروٹ جوسز اور چینی سے بنی غذاﺅں کا کم استعمال کرکے لوگ جگر پر چربی چڑھنے کے مرض کا خطرہ نمایاں حد تک کم کرسکتے ہیں یا اگر اس کے شکار ہیں تو چربی اور ورم کو کافی حد تک کم کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا صحت مند طرز زندگی کی مدد سے بچوں اور بڑوں میں موٹاپے کی وبا سے جگر پر چربی چڑھنے کی شرح کو نمایاں حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔ عام طورپر فیٹی لیور کی علامات بہت زیادہ نمایاں نہیں ہوتیں اور اس کے شکار بیشتر افراد کو اس کا اندازہ بھی نہیں ہوتا۔ اس تحقیق کے دوران محققین نے 40 ایسے بچوں کا جائزہ لیا جو کہ جگر پر چربی چڑھنے کے مرض کا شکار تھے۔ ان بچوں کو 2 مختلف غذائی پلان دیئے گئے ہیں اور 8 ہفتے تک ان پر عملدرآمد کی ہدایت کی گئی۔ ایک گروپ کو میٹھے کا استعمال محدود جبکہ دوسرے گروپ کو معمول کی غذا جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ میٹھی اشیاءکا استعمال محدود کرنے والے گروپ کے جگر کی صحت میں مثبت تبدیلی دیکھنے میں آئی اور جگر پر چربی اوسطاً 31 فیصد تک کم ہوگئی، جبکہ دوسرے گروپ میں کوئی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی۔ اس سے قبل امریکا کے فنکشنل میڈیکل انسٹیٹوٹ کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ پانی کم پینا بھی جگر کے امراض کا خطرہ بڑھاتا ہے۔ تحقیق کے مطابق جسم میں پانی کی کمی براہ راست جگر کی جسم کے نقصان دہ اجزاءکو فلٹر کرنے کی صلاحیت کو

متاثر کرتی ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ جب انسان پانی کا کم استعمال کرتے ہیں تو جگر ڈی ہائیڈریشن کا شکار ہونے لگتا ہے اور ان اجزاءکو کھونے لگتا ہے جو جسم کے باقی حصوں کی نگہداشت کا کام کرتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق ایسا ہونے کی صورت میں جگر کے مہلک امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور لوگوں کو اکثر ان کا علم کافی دیر سے ہوتا ہے۔ محققین نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مناسب مقدار میں پانی کے استعمال کو ہر صورت میں یقینی بنائیں چاہے موسم سرد ہی کیوں نہ ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…