پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

ساہیوال سانحہ میں متاثرہ بچوں سے بار بار واقعہ کے بارے میں پوچھنے کے مستقبل میں کتنے بھیانک اثرات سامنے آئیں گے؟ نفسیاتی معالج نے انتباہ کردیا

datetime 21  جنوری‬‮  2019 |

لاہور( این این آئی) نفسیاتی معالج ارسہ غزل نے کہا ہے کہ ساہیوال سانحہ میں متاثرہ بچوں سے بار بار واقعہ کے بارے میں پوچھنا ان کے ذہنوں پر ایک شدید نقش چھوڑ رہا ہے جو کہ غلط ہے ،لوگوں کو اندازہ نہیں ہے کہ یہ واقعہ اور بار بار اس کی یاد دلانا انہیں مستقبل میں بہت سی نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا کر سکتا ہے۔بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر بار بار ساہیوال واقعہ اور اس میں متاثر ہونے والے بچوں کی ویڈیوز چل رہی ہیں،

بچوں سے سوال کر کے بار بار اسی واقعہ کے اندر لیجایا جا رہا ہے ۔یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے آپ سے کسی گزرے ہوئے واقعہ کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو آپ اپنے ذہن میں اس اسے یاد کرتے ہیں اوردوہراتے ہیں اور پھر آپ کسی کو اس کے بارے میں بتاتے ہیں۔ ساہیوال میں بھی بچوں کے ساتھ یہی کیا جا رہا ہے، یہ ان کے ذہنوں پر ایک شدید نقش چھوڑ رہا ہے جو کہ غلط ہے۔انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ لوگ یہ سوچ رہے ہوں کہ ہم ان کی مدد کر رہے ہیں ٹھیک ہے آپ انہیں انصاف دلوانا چاہ رہے ہوں گے لیکن یہ طریق کار بہت غلط ہے۔پاکستان سمیت دنیا بھر میں یہ قانون موجود ہے کہ آپ بچوں کے سامنے ان کی موجودگی میں اس قسم کی کوئی کارروائی کسی صورت میں نہیں کر سکتے۔نفسیاتی معالج ارسہ غزل کے مطابق اس قسم کے واقعات میں بچے ڈرؤانے خواب، اکیلے پن، کھانے اور سونے کے اوقات کے متاثر ہونے کا شکار ہو سکتے ہیں ان کے سامنے اگر ایسا واقعہ ہو گیا ہے تو آپ فی الحال انہیں ریلیکس ہونے کے لیے چھوڑ دیں،یہ پہلی ترجیح ہونی چاہیے انہیں اس وقت کونسلنگ کی ضرورت ہے۔بچوں کے ذہن کچے ہوتے ہیں اور اِن بچوں کے والدین کی طبعی موت نہیں ہوئی یہ چیز ان پر منفی اثرات چھوڑتی ہے۔آپ کو اندازہ نہیں ہے کہ یہ واقعہ اور بار بار اس کی یاد دلانا انہیں مستقبل میں بہت سی نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا کر سکتا ہے۔بطور نفسیاتی معالج ایسے بچوں کا علاج کرنا بھی ہمارے لیے بہت بڑا چیلنج ہوتا ہے،

یاداشت کو کھرچ دینا بالکل ختم کرنا خاص طور پر بچوں کے معاملے میں اتنا آسان نہیں ہوتا۔یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ جیسے ہمیں اپنے بچپن کی باتیں شاید حال کی کچھ باتوں سے زیادہ اچھی طرح یاد ہوتی ہیں۔بچوں کی یاداشت بہت اچھی اور پکی ہوتی ہے اور ایسی صورتحال کا شکار ہونے کے بعد وہ زیادہ مشکل کا شکار ہو سکتے ہیں ایسا ان کے لیے ڈراؤنے خواب، اکیلے رہنے کو ترجیح دینا یعنی گھلنا ملنا پسند نہ کرنا، کھانے اور سونے کے اوقات متاثر ہونے کی صورت میں ہو سکتا ہے۔صدماتی کیفیت کے شکار بچوں کے علاج کے لیے ان کی شخصیت کو مدنظر رکھا جاتا ہے اور ان سے 10 سے 12اور کبھی کبھی اس سے بھی زیادہ سیشنز کیے جاتے ہیں۔

اس کے عمومی طریق کار میں پہلے سیشن میں بچے سے ملاقات کی جاتی ہے اور دوسرے سیشن میں اس سے باضابطہ بات چیت کا آغاز کیا جاتا ہے اگر وہ بات کرنا پسند نہ کرے تو پلے تھراپی)یعنی کھیل کے ذریعے(یا ڈرائنگ تھراپی کے ذریعے اس کی ذہنی صورتحال کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔کس بچے کو کتنا وقت دینا ہے اور کتنے دن بعد دوسرے سیشن کے لیے بلوانا ہے یہ فیصلہ ہر بچے کو دیکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔ان کے چہروں کو آپ دیکھیں وہاں معصومیت، خوف آور آنسو ہیں، ان بچوں کو ہم اسی طرح تکلیف سے نکال سکتے ہیں کہ ہم انہیں پہلے تھوڑا وقت دیں۔اس وقت ہر چیز ساتھ ساتھ کیے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو بچوں کو سوائے اذیت کے اور کچھ نہیں دے رہا۔اس میں ہمارے سماجی رویے بھی بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بچوں کے رشتہ دار اور اردگرد کے لوگ بھی بار بار ان سے پوچھتے ہیں کہ ہاں بیٹا بتا ؤکیا ہوا ہے جو کہ بہت منفی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…