بدھ‬‮ ، 14 جنوری‬‮ 2026 

سانحہ ساہیوال ، زخمی بہن بھائی جنرل ہسپتال میں،ان کی حالت اب کیسی ہے ؟عمیر خلیل اور منیبہ خلیل کس قدر زخمی ہوئے؟ڈاکٹرز نے تفصیلات جاری کردیں

datetime 20  جنوری‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی) وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر سانحہ ساہیوال کے زخمی بچوں عمیر خلیل اور منیبہ خلیل کو لاہور جنرل ہسپتال میں بہترین علاج معالجے کی سہولتوں کو یقینی بنایا جا رہا ہے ۔اتوار کی صبح:15 5بجے ان زخمی بچوں کی ہسپتال آمد سے قبل ہی پرنسپل پروفیسر محمد طیب ، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر محمود صلاح الدین ،ڈائریکٹر ایدمنسٹریشن ڈاکٹر رانا محمد شفیق اورڈاکٹروں اور نرسز کے ہمراہ ایمر جنسی پہنچ چکے تھے

جہاں 10سالہ عمیر خلیل کے سر سے شیشہ نکالا گیا جبکہ گولی اُس کی ٹانگ سے پہلے ہی آر پار ہو چکی تھی۔اسی طرح 6سال منیبہ خلیل کے دائیں بازو پر شیشہ لگنے کے باعث زخم تھے ،دونوں بچے ہوش میں اور اُن کی حالت خطرے سے باہر ہے۔پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسر محمد طیب نے ان زخمی بہن بھائی کی مناسب دیکھ بھال و نفسیاتی علاج کو یقینی بنانے کیلئے 6رکنی اعلیٰ سطحی میڈیکل بورڈ قائم کرنے کا اعلان کیا جس کے سربراہ پروفیسر آف سرجری ڈاکٹر فاروق افضل ہونگے جبکہ ہیڈآف پیڈز پروفیسر آغا شبیر علی ، پروفیسر آف سائیکاٹری ڈاکٹر الطاف قادر ، ایسوسی ایٹ پروفیسر سرجری ڈاکٹر آمنہ جاوید،ایم ایس ڈاکٹر محمود صلاح الدین اور ڈائریکٹر ایمر جنسی رانا محمد شفیق اس میڈیکل بورڈ کے ممبران میں شامل ہیں۔ گزشتہ دوپہردونوں بچوں کی حالت تسلی بخش ہونے پر انہیں پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیورو سائنسز یونٹ IIکے پرائیویٹ روم میں منتقل کر دیا گیا ۔پروفیسر محمد طیب نے کہا کہ ڈاکٹرز اور نرسز کی ڈیوٹیاں لگا دی گئی ہیں جو24گھنٹے ان بچوں کے پاس ہوں گے جبکہ ڈائریکٹر ایمرجنسی رانا محمد شفیق تمام معاملات کی نگرانی کریں گے ۔ پرنسپل پروفیسر محمد طیب اور ایم ایس ڈاکٹر محمود صلاح الدین نے بچوں کے مامو ں نعیم اور اُن کے چچا عمران سے گفتگو کرتے ہوئے یقین دلایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی ہدایات کے مطابق ان بچوں کی دیکھ بھال میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی ،انہوں نے کہا کہ بلا شبہ ساہیوال کا واقعہ کسی سانحہ سے کم نہیں اور دکھ اور مصیبت کی اس گھڑی میں ہم سب غمزدہ خاندان کے ساتھ ہیں اور اُن کی تکلیف کو کم کرنے کیلئے تمام وسائل برؤئے کار لائیں گے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…