بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

کراچی اسٹاک مارکیٹ میں محدود تیزی سے 32600 کی حد بحال

datetime 22  مئی‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک) کراچی اسٹاک ایکس چینج میں جمعرات کو بھی کاروباری سرگرمیاں سست رفتار رہیں اور اکثریتی سرمایہ کاروں نے مارکیٹ میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔
محدود پیمانے پر تیزی سے اگرچہ انڈیکس میں معمولی اضافے انڈیکس کی32600 پوائنٹس کی حد بحال ہوگئی لیکن 47.32 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی کے ساتھ سرمایہ کاروں کے ایک ارب 69 کروڑ38 لاکھ96 ہزار136 روپے ڈوب گئے۔ کاروباری دورانیے میں ایک موقع پر92.12 پوائنٹس کی تیزی بھی رونما ہوئی لیکن فروخت اور منافع کے حصول پر رحجان غالب ہونے سے تیزی کی مذکورہ شرح میں کمی واقع ہوئی۔
جس سے ایک موقع پر42 پوائنٹس کی مندی بھی رونما ہوئی لیکن اس دوران دوراندیش سرمایہ کاروں نے نچلی قیمتوں پر ا?نے والے مستحکم کمپنیوں کے حصص کی محدود پیمانے پر خریداری کی نتیجتاً مندی کے اثرات زائل ہوئے اور مارکیٹ میں محدود پیمانے پر تیزی رونما ہوئی۔ ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں، بینکوں ومالیاتی اداروں، این بی ایف سیز اور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے مجموعی طور پر36 لاکھ97 ہزار707 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جبکہ اس دوران مقامی کمپنیوں کی جانب سے9 لاکھ80 ہزار 977 ڈالر، میوچل فنڈز کی جانب سے31 لاکھ44 ہزار 836 ڈالر اور دیگر ا?رگنائزیشنز کی جانب سے1 لاکھ 10 ہزار778 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا۔
محدود تیزی کے سبب کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈٰیکس18.74 پوائنٹس کے اضافے سے 32617.74 ہوگیاجبکہ کے ایس ای 30 انڈیکس 4.98 پوائنٹس کے اضافے سے 20743.82 اور کے ایم ا?ئی30 انڈیکس104.30 پوائنٹس کے اضافے سے 53350.47 ہوگیا۔ کاروباری حجم بدھ کی نسبت 41 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر 8 کروڑ3 لاکھ40 ہزار 830 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار336 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں148 کے بھاو¿ میں اضافہ، 159 کے داموں میں کمی اور29 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں انڈس ڈائینگ کے بھاو¿ 40.94 روپے بڑھ کر 880.94 روپے اور شیزان انٹرنیشنل کے بھاو¿30 روپے بڑھ کر985 روپے ہوگئے جبکہ باٹا پاکستان کے بھاو¿ 162.92 روپے کم ہو کر 3228.58 روپے اور ہینوپاک موٹرز کے بھاو¿ 25.82 روپے کم ہو کر 1084.95 روپے ہوگئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…