پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

حکومت کیخلاف تحریک عدم اعتماد، آصف علی زرداری اور فضل الرحمان کے رابطے، جوڑ توڑ عروج پر، حامد میر کی پیش گوئی سچ ثابت ہو گئی

datetime 9  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) بلوچستان میں بی این پی کے صدر سعید ہاشمی اور سرپرست ملک خدا بخش نے وزیراعلیٰ جام کمال کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے تحریک عدم اعتماد لانے کے لیے رابطوں کا آغاز کر دیا ہے، اس طرح معروف صحافی حامد میر کی پیشگوئی سچ ثابت ہو گئی ہے جس میں انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری اور فضل الرحمان کے آپس میں رابطے ہیں اور وہ بلوچستان حکومت گرانا چاہتے ہیں،

ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان عوامی پارٹی کے سعیدہاشمی اور ملک خدابخش نے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کو وزارت اعلیٰ سے ہٹانے کے لیے سپیکر صوبائی اسمبلی قدوس بزنجو، جان جمالی، اختر مینگل، یار محمد رند اور دیگر رہنماؤں سے رابطے شروع کر دیے ہیں، رپورٹ میں کہا گیا کہ اگر یہ دھڑے بندی کامیاب ہو جاتی ہے تو وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب جے یو آئی، عوامی نیشنل پارٹی بلوچستان اسمبلی میں جام کمال کو وزارت اعلیٰ سے ہٹانے کے لیے پہلے سے ہی متحرک ہیں، وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال سے سعید ہاشمی اور ملک خدا بخش سخت ناراض ہیں، ان رہنماؤں نے قدوس بزنجو، جان جمالی، صالح بھوتانی، طارق مگسی، وینش کمار، یار محمد رند کے برادر نسبتی عامر رند اور دیگر سے دھڑے بندی کے لیے رابطہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ معروف صحافی حامد میرنے گزشتہ روز ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں کہا تھا کہ جوڑ توڑ اور حکومت گرانے کی تیاریاں عروج پر ہیں، انہوں نے کہا تھاکہ بلوچستان حکومت کوگرانے کے لیے جوڑ توڑ ہو رہا ہے، انہوں نے بتایا کہ اس کے مرکزی کردار سردار اخترمینگل، مولانا فضل الرحمان اور کچھ آزاد لوگ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آصف زرداری سے مولانا فضل الرحمان کا کئی دنوں سے رابطہ ہے اور ان کے علاوہ بھی کچھ سیاسی رہنماؤں کا آپس میں رابطہ ہے، آصف زرداری سے سردار اختر مینگل بھی مل چکے ہیں،

معروف صحافی نے بتایا کہ اس وقت جوڑ توڑ اور رابطے تین چار جگہ چل رہے ہیں، انہوں نے بتایا کہ ایک جانب کراچی میں جوڑ توڑ جاری ہے تو دوسری جانب پنجاب میں، تیسری طرف بلوچستان اور چوتھی طرف سینٹ میں بھی رابطے ہو رہے ہیں، معروف صحافی نے بتایا کہ میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری میں رابطے ہیں لیکن اس وقت یہ لوگ تحریک انصاف کی حکومت کو گرانا نہیں چاہتے، ان کی سب سے زیادہ توجہ اس وقت بلوچستان پر ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…