منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سہیل انور سیال نے سندھ کے وزیرداخلہ کی حیثیت سے حلف اٹھالیا

datetime 21  مئی‬‮  2015 |

کراچی (نیوزڈیسک) سندھ میں دوسال سے صوبائی وزیرداخلہ کاقلمدان وزیراعلی کے پاس تھااورکس اورپیپلزپارٹی کے کسی اوررکن کونہیں سونپاگیالیکن دوسال کے بعد رکن سندھ اسمبلی سہیل انور سیال کوصوبائی وزیرداخلہ کاقلمدان سونپ دیاگیا۔لاڑکانہ سے پاکستان پیپلزپارٹی کے رکن سندھ اسمبلی سہیل انور سیال نے جمعرات کی شام سندھ کے وزیرداخلہ کی حیثیت سے حلف اٹھالیا ہے۔ حلف کی تقریب گورنر ہاو س سندھ میں منعقد ہوئی۔ گورنر ڈاکٹر عشرت العباد خان نے سہیل انور سیال سے حلف لیا۔ تقریب میں سندھ کے وزیراطلاعات شرجیل انعام میمن، وزیرخزانہ مراد علی شاہ اور اینٹی کرپشن کے وزیر منظوروسان سمیت پیپلزپارٹی کے ارکان سندھ اسمبلی بھی شریک ہوئے۔ سندھ کی وزارت داخلہ کی سیٹ 2012 سے خالی تھی۔ منظور حسین وسان اس سے قبل وزیرداخلہ سندھ تھے۔ واضح رہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے رکن سندھ اسمبلی سہیل انور سیال کا تعلق لاڑکانہ کی تحصیل باکرانی سے ہے پیشے کے لحاظ سے وہ زمیندار ہیں۔سہیل انور سیال نے پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے دیرینہ ساتھی انور علی خان سیال کے گھر میں 26 جون 1975 کو آنکھ کھولی۔بچپن سے ہی سیاسی تربیت ان کے خون میں شامل رہی اور سہیل انور سیال نے نوجوانی کے دنوں میں عملی سیاست کا آغاز کیا وہ پاکستان پیپلزپارٹی ضلع لاڑکانہ کے اہم عہدوں پر بھی فائز رہے۔سہیل انور سیال کے چچا غلام سرور خان سیال بھی 2008 والی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں جبکہ سہیل انور سیال ضمنی انتخابات میں کامیاب ہو کر 2014 میں سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔سہیل انور سیال کا گھرانہ پاکستان پیپلزپارٹی کے جیالوں میں شمار کیا جاتا ہے۔جبکہ ذرائع کے مطابق سہیل انور سیال کے متعلق بتایاجاتاہے کہ وہ پیپلزپارٹی کے شریک چیرمین آصف علی زرداری کی بہن فریال تالپورکے قریبی سمجھے جاتے ہیں واضح رہے کہ اس سے قبل ڈاکٹرذوالفقارمرزا آصف علی زرداری کے قریبی دوست تھے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…