پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

ہیپاٹائٹس کے علاج کیلئے سستا ترین انجکشن ایجاد کرنے والے پاکستانی ڈاکٹر کوجھوٹے مقدمات میں پھنسادیاگیا،چیف جسٹس کا اظہار افسوس ،دھماکہ خیز اقدام

datetime 6  جنوری‬‮  2019 |

لاہور( این این آئی) سپریم کورٹ نے ہیپاٹائٹس کے علاج کیلئے سستی ادویات کی تیاری اور مصنوعی جلد بارے تحقیق کے معاملے میں حائل تمام تکنیکی اور حکومتی رکارٹوں کو حل کرنے کیلئے وفاقی وزیر صحت سمیت 11 رکنی خصوصی کمیٹی کو سوموار کو اسلام آباد میں طلب کر لیا۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ہیپاٹائٹس کے علاج کے لئے سستی ادویات کی تیاری اور مصنوعی جلد بارے تحقیق کیلئے ڈاکٹر جاوید اکرم اور ڈاکٹر ریاض کی مفاد عامہ کی درخواست پر سماعت کی۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دئیے کہ سپریم کورٹ ہیپاٹائٹس کا سستا انجکشن ایجاد کرنے پر ڈاکٹر ریاض کی جدوجہد کو ستائش کی نظروں سے دیکھتی ہے لیکن ڈاکٹر ریاض کے ساتھ جو کچھ ہوا اس پر دکھ ہے۔ بینچ کے فاضل رکن جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ڈاکٹر ریاض نے ہیپاٹائٹس کی سستی ادویات ایجاد کر کے ملٹی نیشنل کمپنیوں کے اربوں روپے کے منافع پر ہاتھ ڈالا۔ دوران سماعت ڈرگ ریگولیریٹی اتھارٹی کے سربراہ نے عدالت کو بتایا کہ انٹرفیرون انجکشن اور مصنوعی جلد بارے تحقیق کے لئے کمیٹی تجویز کر چکے ہیں جبکہ کمیٹی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن حکومت نے کرنا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ہم اس مسئلے میں حائل تکنیکی و حکومتی رکاوٹوں کو حل کرنے میں مدد کریں گے۔چیف جسٹس نے حکم دیا کہ وفاقی وزیر صحت سمیت خصوصی کمیٹی آج ( سوموار)لا ء اینڈ جسٹس کمیشن آ جائے،یوں سمجھیں کہ آج آپ اور ہم سب قید ہوں گے اور اس مسئلے کو حل کر کے اٹھیں گے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دئیے کہ مہنگی درآمدی ادویات پر دی جانے والی سبسڈی کو مقامی ادویات کی تحقیق اور تیاری پر خرچ کیا جائے تو پاکستانی مریضوں کو سستی ادویات میسر آ سکتی ہیں۔ درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ ڈاکٹر ریاض نے پاکستان پر احسان کر کے ہیپاٹائٹس مریضوں کے لیے سستا انجکشن ایجاد کیا لیکن بد قسمتی سے ملٹی نیشنل مافیا نے ڈاکٹر ریاض کو جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر ان کا منصوبہ ناکام بنا دیا۔درخواست گزار نے کہا کہ اگر حکومت تعاون کرے تو ہیپاٹائٹس کے علاج کے لئے آج بھی صرف 310 روپے میں انجکشن تیار کر کے دے سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…