ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

انتہا پسند ہندوؤں نے مسلمانوں کو اذیت دینے کا ایک اور بہانہ ڈھونڈ لیا،کھلی جگہوں پر نمازِ جمعہ پڑھنے پرپابندی عائد

datetime 3  جنوری‬‮  2019 |

نئی دہلی(نیوزڈیسک) بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں نے مسلمانوں کو اذیت دینے کا ایک اور بہانہ ڈھونڈ لیا، انتہا پسندوں نے اعلان کر دیا کہ کھلی جگہوں پر نمازِ جمعہ نہیں پڑھنے دیں گے۔تفصیلات کے مطابق بھارت میں انتہا پسند ہندو اب مسلمانوں کو کھلی جگہوں میں نمازِ جمعہ کی ادائیگی سے روکنے لگے،

سابق بھارتی جج ہندوؤں کے اس انتہا پسندانہ رویے پر برس پڑے۔ مسلمانوں کو نمازِ جمعہ کی ادائیگی سے روکے جانے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جج مارکنڈے کٹجو کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو نمازِ جمعہ کی ادائیگی سے روکے جانے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔مارکنڈے کٹجو کا کہنا تھا کہ اگر کوئی نماز پڑھ رہا ہے تو وہ کسی کا ہاتھ یا سر تو قلم نہیں کر رہا، اس پر اعتراض کیوں ہے، مسلمانوں کو میدانوں اور پارکوں میں نماز پرھنے سے روکنا غلط ہے۔خیال رہے کہ بھارت میں آر ایس ایس اور دوسری انتہا پسند تنظیموں کو کھلے میدانوں میں جمع ہونے کی اجازت ہے، تو مسلمانوں کو مذہبی عبادات کی ادائیگی کی اجازت کیوں نہیں؟چند ماہ قبل ہریانہ کے گوڑ گاؤں میں انتہا پسند ہنندوؤں نے نعرے لگاتے ہوئے با قاعدہ طور پر مسلمانوں کو نماز جمعہ سے روک دیا تھا جس کی ویڈیو انٹرنیٹ پر تیزی سے وائرل ہو گئی تھی، بعد ازاں چھ انتہا پسند ہندوؤں کو گرفتار بھی کیا گیا تھا۔ بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں نے مسلمانوں کو اذیت دینے کا ایک اور بہانہ ڈھونڈ لیا، انتہا پسندوں نے اعلان کر دیا کہ کھلی جگہوں پر نمازِ جمعہ نہیں پڑھنے دیں گے۔تفصیلات کے مطابق بھارت میں انتہا پسند ہندو اب مسلمانوں کو کھلی جگہوں میں نمازِ جمعہ کی ادائیگی سے روکنے لگے، سابق بھارتی جج ہندوؤں کے اس انتہا پسندانہ رویے پر برس پڑے۔ مسلمانوں کو نمازِ جمعہ کی ادائیگی سے روکے جانے کی شدید مذمت کرتا ہوں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…