لندن ۔۔۔۔۔یوکرین کے بحران پر روس اور مغربی ممالک کے درمیان رشتہ کشیدہ ہوتا جا رہا ہے اور پورے یورپ میں فوجی کشیدگی کی خفیف لہریں محسوس کی جا رہی ہیں۔نیٹو نے یوکرین میں روس کی دخل اندازی کے جواب میں کیئف کے ساتھ اپنے رشتے کو مضبوط کرنا شروع کیا ہے اور مشرقی اور وسطی یورپ کے اپنے اتحادیوں کے ساتھ فضائی نگرانی اور فوجی مشقوں میں اضافہ کیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق دوسری جانب روس نے اس کے جواب میں زیادہ سرگرم اور بعض لوگوں کے خیال میں زیادہ جارحانہ رخ اختیار کیا ہے اور سرد جنگ کے زمانے جیسی سرگرمی دکھا رہا ہے جس میں وہ نیٹو کے دفاع کو آزمایا کرتا تھا۔لندن میں قائم یورپی لیڈرشپ نیٹ ورک نامی تھنک ٹینک نے ایک تفصیلی مطالعہ پیش کیا ہے جس میں روس کی سرگرمیوں کے بارے میں زیادہ وثوق سے بات کی گئی ہے۔’خطرناک دہانہ گیری: سنہ 2014 میں روس اور یورپ کے درمیان قریبی فوجی تصادم نامی اس رپورٹ میں 40 ایسے واقعات کا ذکر کیا گیا ہے جو گذشتہ آٹھ مہینوں میں ہوئے۔اس میں کہا گیا ہے کہ ’اس سے قومی فضائی حدود کی خلاف ورزیوں کی پریشان کن تصویر ابھرتی ہے جس میں ایک بڑے جغرافیائی علاقے میں بحرانی کشمکش، فضا میں طیاروں کے ٹکرانے سے بال بال بچنا، سمندر میں قریبی تصادم اور اسی قسم کے مسلسل دوسرے واقعات شامل ہیں۔‘جنگ کے خطرات کو بڑھانے والے واقعات میں انتہائی قریب سے طیارے کی نگرانی کرنا شامل ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسلسل تصادم کے علاوہ ’11 ایسے سنجیدہ واقعات ہوئے ہیں جو جنگ کے خطرے کو بڑھاتے ہیں۔‘ان میں نگرانی کرنے والے طیاروں کو ہراساں کرنا، جنگی طیاروں کے اوپر بہت قریب سے طیارہ لے جانا اور روس کے ’نقلی بمبار حملوں کے مشن‘ شامل ہیں۔اس رپورٹ میں ’تین بڑے خطرے والے واقعات‘ کی بطور خاص نشاندہی کی گئی ہے جن سے رپورٹ کے مطابق ’جان و مال کے خطرے یا براہ راست فوجی تصادم کا بہت خطرہ تھا۔‘کوپن ہیگن سے اڑنے والے ایس اے ایس شہری طیارے کا روسی نگرانی کرنے والے جنگی طیارے سے ٹکرانے سے بال بال بچنا بھی شامل ہے جو رپورٹ کے مطابق محض فوجی کھیل نہیں۔رپورٹ کا کہنا ہے کہ یہ حقیقی خطرات ہیں کیونکہ روسی طیارے اپنی پوزیشن کی نشاندہی کے لیے استعمال میں لائے جانے والے طریقے کا استعمال نہیں کرتے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سمندر میں بہت ہی قریبی جھڑپیں ہوئی ہیں۔تھنک ٹینک نے مجموعی طور پر تین تجاویز پیش کی ہیں۔ اس کا کہنا ہے ’روسی قیادت کو اپنے زیادہ سرگرم فوجی رویے میں شامل اخراجات اور خطرات کا فوری طور پر از سر نو جائزہ لینا چاہیے اور مغربی سفارت کو چاہیے کہ وہ روس کو اس کے لیے راضی کریں۔‘
اس میں کہا گیا ہے کہ ’اس میں شامل تمام پارٹیوں کو فوجی اور سیاسی تحمل سے کام لینا چاہیے‘ اور یہ کہ ’تمام پارٹیوں کو فوجوں کے درمیان بات چیت اور شفافیت کو بہتر بنانا چاہیے۔
یوکرین کے بحران پر روس اور مغربی ممالک کے درمیان رشتہ کشیدہ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا
-
آئی سی سی ورلڈکپ 2027 میں براہ راست رسائی حاصل کرنے والی 10 ٹیمیں فائنل
-
اسلام آباد میں 258 چینی شہری گرفتار
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)
-
عید میلادالنبیﷺ کب منائی جائے گی؟ تعطیل کا اعلان ہوگیا
-
اٹک میں قبرستان سے ملنے والی بچے کی لاش کا معمہ حل، قاتل بچے کا باپ نکلا
-
پولیس حراست میں دو خواتین کی ہلاکت، پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی
-
رواں ہفتے تمام بینک 3 دن بند رہیں گے، اعلان ہوگیا
-
سلمان اکرم راجہ اور مشال یوسفزئی کی مبینہ آڈیو لیک ہوگئی
-
بجلی صارفین کو ریلیف ختم، ستمبر سے بلوں میں اضافے کا امکان
-
انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کے لیے گفٹ اسکیم ! اہم خبر آگئی
-
12 اگست کو نایاب مکمل سورج گرہن، کیا پاکستان میں نظر آئے گا؟
-
لاہور؛ اے ایس آئی کی لڑکی سے مبینہ زیادتی کیس میں نیا موڑ
-
شازیہ مری کی مبینہ جعلی ڈگری کا معاملہ، سندھ ہائیکورٹ نے 13 سال بعد فیصلہ سنادیا



















































