بدھ‬‮ ، 25 فروری‬‮ 2026 

جھنگ ، دریائے جہلم میں آنے والے سیلابی ریلے نے تباہی مچا دی

datetime 21  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)جھنگ دریائے جہلم میں آنے والے سیلابی ریلے نے تباہی مچا دی 32دیہات زیر آب درجنوں مویشی پانی کی نظر کھیت کھلیان تباہ ،انتظامیہ خواب خرگوش کے مزہوں میں ۔ تفصیلات کے مطابق جھنگ کے قریب سے گزرنے والے دریائے جہلم میں گزشتہ روز آنے والے سیلابی ریلے نے ضلع جھنگ کے 32دیہاتوں، قصبوں میں تباہ مچاتے ہوئے سیکڑوں ایکٹ اراضی کو بھی تباہ کر دیا جن علاقوں کو سیلابی پانی نے اپنی لپیٹ میں لیا ہے ان میں پیر کوٹ ،سدھانہ، نکے بلوچ، دھبی بلوچاں دی ، کدی، لطیف شاہ،کامرہ ،موضع دراج ،لﺅ سمیت دیگر قریب واقع قصبہ جات شامل ہیں سیلابی پانی نے فصلیں ، مکانات کو شدید نقصان پہنچاتے ہوئے تحصیل اٹھارہ ہزاری سے ہوتے اب تحصیل احمد پور سیال کے دیہاتوں کی طرف گامزن ہے دوسری جانب اہل علاقہ نے میڈیا کے نمائندوںکو بتایا کہ سیلابی ریلے کو آئے 2روز گزر گئے ہیں اب تک ضلعی انتظامیہ کی جانب کوئی مدد کو نہیں آیا اور نہ ہی سیلاب بارے ہمیں بروقت اطلاع دی گئی تھی سیلاب متاثرین نے میڈیا کے توسط سے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف ، وزیر اعلی پنجاب میاں محمد شہباز شریف سے فوری نوٹس لینے اور ضلعی انتظامیہ کی نا اہل اور غفلت برتنے پر سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔

مزید پڑھیے:پا کستانی طلبہ نے فٹبال کھیلنے والے ربورٹ تیار کر لیے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نواز شریف کی سیاست میں انٹری


لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…