ہفتہ‬‮ ، 17 جنوری‬‮ 2026 

چین نے پہلی مرتبہ سی پیک کے تحت پاکستان پر واجب الادا قرضوں کی تفصیلات جاری کر دیں

datetime 29  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد ( آن لائن ) چین نے پہلی مرتبہ سی پیک کے تحت پاکستان پر واجب الادا قرضوں کی تفصیلات جاری کر دیں، پاکستان کے ذمے 40 ارب ڈالرز کا قرضہ ہونے کی خبریں بے بنیاد ہیں، سی پیک کے تحت چین نے پاکستان کو 6 ارب ڈالز کا واجب الادا قرضہ دیا ہے جس کی ادائیگی 2021 سے شروع ہوگی۔ تفصیلات کے مطابق چینی حکام نے پاکستان پر سی پیک کے تحت 40 ارب ڈالرز سے زائد قرضہ واجب الادا ہونے کی خبروں کی تردید کردی ہے۔

چین نے مغربی میڈیا کی جانب سے کیے جانے والے پراپیگنڈا کے بعد پہلی مرتبہ سی پیک کے تحت پاکستان پر واجب الادا قرضوں کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ چینی حکام کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق حکومت پاکستان پر سی پیک کے تحت واجب الادا قرضے صرف 6 ارب ڈالرز ہیں جو کہ صرف 2 فیصد کی شرح سود پر فراہم کیا گیا ہے۔حکومت پاکستان کو سی پیک کے تحت صرف 6 ارب ڈالرز کا قرضہ واپس کرنا ہے۔6 ارب ڈالرز کے قرضے کی واپسی کا سلسلہ 2021 سے شروع ہو گا جبکہ قرضہ 25 سے 30 برس کی مدت کے دوران واپس کیا جا سکے گا۔ چینی حکام کی جانب سے مزید بتایا گیا ہے کہ سی پیک منصوبے کے تحت جاری کیے جانی والی دیگر رقوم سرمایہ کاری ہیں نہ کہ قرض۔ سی پیک منصوبے کے تحت توانائی اور دیگر شعبوں کیلئے چینی کمپنیوں نے قرضے حاصل کیے ہیں۔ چینی کمپنیوں کی جانب سے حاصل کردہ قرضوں کا حجم 12 ارب ڈالرز سے زائد ہے۔یہ قرضے کمرشل بینکوں کی جانب سے حاصل کیے گئے ہیں۔ 12 ارب ڈالرز سے زائد کے یہ قرضے چینی کمپنیوں کو واپس کرنا ہوں گے۔ یہ قرضے پاکستان کی حکومت کے ذمے نہیں ہیں۔ جبکہ سی پیک منصوبے کے تحت شاہراہوں کا جو جال بچھایا جا رہا ہے، وہ چینی حکومت کی امداد کے تحت ہے۔ شاہراہوں کی تعمیر کیلئے درکار سرمایہ چینی حکومت فراہم کر رہی ہے۔ چینی حکومت کی جانب سے فراہم کردہ یہ سرمایہ قرضہ نہیں ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…