پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

متحدہ عرب امارات، امریکا، ترکی، سعودی عرب، ایران کے سفارتخانوں نے اسلام آباد میں کیا غیر قانونی کام شروع کردیا؟نوٹسز جاری ، دفتر خارجہ کو بھی حقائق سے آگاہ کردیاگیا

datetime 29  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(اے این این)کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی(سی ڈی اے)نے دفتر خارجہ سے درخواست کی ہے کہ اپنے اثرو رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے سفارتخانوں کی عمارتوں کی خلاف ورزیوں کو ٹھیک کروائیں۔اتھارٹی کے بلڈنگ کنٹرول سیکشن نے دفتر خارجہ کو خط لکھ کر بتایا کہ مختلف ممالک کے سفارتخانے اپنی عمارتوں کی ضروری تکمیلی سرٹیفکیٹ کے بغیر قائم ہیں۔

سی ڈی اے کی جانب سے بلڈنگ کنٹرول کا خط اگلے چند دنوں میں دفتر خارجہ ارسال کیا جائے گا۔میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سی ڈی اے نے خط میں لکھا ہے کہ متحدہ عرب امارات، امریکا، ترکی، کینیڈا، دی ویٹیکن، سعودی عرب، ایران کے سفارتخانوں کی جانب سے عمارتوں کا استعمال بغیر تکمیلی سرٹیفکیٹ کے کیا جارہا ہے۔ایک خط میں لکھا گیا کہ اسلام آباد کے ڈپلومیٹک انکلیو میں قائم متحدہ عرب امارات کے سفارتخانے کی عمارت کا تکمیلی سرٹیفکیٹ کے بغیر استعمال پر کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے توجہ دلائی جارہی ہے۔اس میں مزید لکھا تھا کہ اسلام آباد کے بلڈنگ کنٹرول ریگولیشن 2005 کے مطابق کسی بھی عمارت کو اتھارٹی کی جانب سے تکمیلی سرٹیفکیٹ، رہنے کی اجازت کے بغیر استعمال نہیں کیا جاسکتا ہے۔اس ہی طرح کے خط دیگر سفارتخانوں کے نام پر بھی لکھے گئے۔سی ڈی اے ذرائع کا کہنا تھا کہ یہ سرٹیفکیٹ عمارت کی مکمل جانچ پڑتال، ہنگامی صورتحال کے لیے انتظامات اور عمارت کے بنیادی ڈھانچہ مستحکم ہونے کی یقین دہانی کے بعد جاری کیا جاتا ہے۔بلڈنگ کنٹرول کے ڈائریکٹر فیصل نعیم نے تصدیق کی کہ سی ڈی اے کی جانب سے دفتر خارجہ کے ذریعے مختلف سفارتخانوں کو تکمیلی سرٹیفکیٹ کے لیے لکھا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے تکمیلی سرٹیفکیٹ کے بغیر استعمال کرنے والی عمارتوں کے خلاف مہم کا آغاز کردیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے گزشتہ چند روز میں بڑی تعداد میں نوٹسز جاری کردیے ہیں اور سی ڈی اے تکمیلی سرٹیفکیٹ کے بغیر کمرشل عمارت استعمال کرنے والوں کے یوٹیلیٹی سہولیات ختم کردے گی۔سی ڈی اے حکام کا کہنا تھا کہ عمومی طور پر تکمیلی سرٹیفکیٹ اس لیے نہیں لیا جاتا کیونکہ عمارت کو نقشے کے خلاف تعمیر کیا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…