پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

پے در پے ہلاکتیں ،نیب حراستی مراکز میں کیا کچھ ہوتا ہے؟انسانی حقوق کمیشن نے ایسا مطالبہ کردیا کہ نیب والوں کے ہوش اڑ گئے

datetime 25  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(آن لائن) نیشنل کمیشن برائے ہیومن رائٹس (این سی ایچ آر) کے چیئرمین جسٹس(ر) علی نواز چوہان نے سرگودھا یونیورسٹی کے لاہور کیمپس کے سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر میاں جاوید کی جیل حراست میں ہلاکت کا از خود نوٹس لے لیا ہے ۔منگل کے روز نیشنل کمیشن برائے ہیومن رائٹس (این سی ایچ آر )نے قومی احتساب بیورو (نیب) سے مطالبہ کیا کہ کمیشن کی ایک ٹیم کو نیب کے حراستی مرکز کا معائنہ کرنے کی اجازت دی جائے۔

یو سی ایچ آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق متوفی نیب لاہور آفس کے زیر تفتیش تھے، واقعے کی سنگینی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کمیشن نے این سی ایچ آر کے ایکٹ برائے سال 2012 کے تحت از خود نوٹس لے لیا۔کمیشن نے واقعے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نیب حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ این سی ایچ آر کے قانون برائے 2012 کے سیکشن 9 کے تحت ضروری اقدامات اٹھانے کے لیے 31 دسمبر سے قبل اس واقعے کی جامع رپورٹ مرتب کر کے پیش کی جائے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ’کمیشن این سی ایچ آر کے قانون برائے 2012 کے سیکشن 9 کے دائرہ کار کے تحت اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے نیب کے حراستی مرکز کا معائنہ کرنا چاہتا ہے۔بیان کے مطابق ’متوفی کی ہتھکڑی لگی لاش کی تصاویر سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ کے دیگر پلیٹ فارمز پر وائرل ہونے پر کمیشن نیب حکام سے مطالبہ کرتا ہے کہ جس قدر جلدی ممکن ہوسکے این سی ایچ آر ٹیم کو نیب کے حراستی مرکز کا معائنہ کرنے کی اجازت دی جائے اور اس سلسلے میں وقت اور تاریخ کا تعین کیا جائے کیوں کہ این سی ایچ آر کی ذمہ داری ہے کہ انسانی حقوق کا تحفظ اور فروغ یقینی بنائے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ’کمیشن کسی بھی ادارے کی کارروائی میں مداخلت نہیں کرنا چاہتا لیکن انسانی حقوق کی حفاظت کی غرض سے کمیشن اپنے اختیارات کے دائرہ کار استعمال کرنے کا خواہاں ہے۔

خیال رہے کہ قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف شہباز شریف نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ انہیں ایسے کمرے میں رکھا جارہا تھا جہاں دن اور رات میں فرق کرنا ممکن نہیں۔واضح رہے کہ میاں جاوید یونیورسٹی کے غیر قانونی کیمپس کے قیام کی تحقیقات کے سلسلے میں اکتوبر سے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں تھے، گزشتہ ہفتے انہوں نے سینے میں تکلیف کی شکایت کی ،جس کے بعد انہیں طبی امداد کے لیے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…