پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

کیا آپ جانتے ہیں ؟ ٹائروں کی بھی ایکسپائری ڈیٹ ہوتی ہے

datetime 11  مئی‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) یا آپ جانتے ہیں کہ گاڑیوں کے ٹائر کی بھی مدتِ استعمال ہوتی ہے، یعنی ایک مخصوص تاریخ کے بعد ٹائروں کو استعمال کرنا خطرے سے بھرپور ہوتا ہے۔ گاڑیوں کے ٹائر بنانے والی کمپنیوں کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے تیار کردہ ٹائر پر اس کی مینوفیکچرنگ کا مہینہ

اور سال ایک مخصوص انداز میں درج کریں تاکہ کوئی  بھی شخص اسے باآسانی سمجھ کر بروقت اپنے ٹائر تبدیل کرسکے۔ صارفین یہ بات یاد رکھیں کہ مینوفیکچرنگ کی تاریخ کے بعد سے کسی بھی ٹائر کی محفوظ زندگی چار سال تک ہوتی ہے۔ اب آپ سوچیں گے کہ ہم ٹائر تیار ہونے کی تاریخ کس طرح جان سکتے ہیں؟۔ یہ تاریخ ہر ٹائر پر چار ہندسوں کی صورت میں لکھی ہوتی ہے۔ پہلے دو ہندسے تیاری کے ہفتے کی نمائندگی کرتے ہیں، جبکہ آخری دو تیاری کا سال بتاتے ہیں۔ یہ چار ہندسے ٹائر پر واضح کرکے لکھے جاتے ہیں، ان کے ساتھ حروف تہجی شامل نہیں کیے جاتے۔ کچھ کمپنیاں اس تاریخ کو مزید نمایاں کرنے کے لیے چار ہندسوں سے پہلے اور بعد میں سٹار کا نشان (*)  بهی بناتی ہیں۔ مثال کے طور پر‌ اگر یہ چار ہندسے1216 ہیں تو ان کا مطلب ہے کہ ٹائر سال2016 کے 12 ویں ہفتہ یعنی (اپریل کے آخری ہفتے) میں تیار کیا گیا تھا۔ یعنی‌اس ٹائر کی محفوظ میعاد2020 کے 12 ویں ہفتہ میں ختم ہو جائے گی۔ لہذا آپ کو اس تاریخ کے بعد ٹائر بدلنا ہوگا۔ ٹائر خریدتے وقت یہ بھی خیال کرنا ضروری ہے کہ کچھ کمپنیوں کے ٹائر پر تیاری کی تاریخ نہیں لکھی جاتی، یہ ایک سنگین جرم ہے مگر چین کے کچھ برانڈز میں عام ہے۔ مینوفیکچرنگ کی تاریخ دیکهے بغیر ٹائر خریدنا ایسا ہی ہے جیسے مدت میعاد دیکھے بغیر ادویات کا استعمال‌ کرنا، بلکہ یہ اس سے بھی بدتر ہے۔ کیونکہ خراب ادویات تو صرف آپ کو تکلیف پہنچا سکتی ہیں۔ جبکہ ٹائر کا پهٹنا گاڑی کے تمام مسافروں کی زندگی کو خطرے میں ڈالتا ہے۔ اب جبکہ آپ جان چکے ہیں کہ کسی بھی گاڑی کے ٹائر کی مدت میعاد کس طرح دیکھی جاتی ہے تو ذرا زحمت کرکے اپنی گاڑی کے ٹائروں کی ایکسپائر ہونے کی تاریخ بھی دیکھ لیں ، یہ آپ اور آپ کے اہل خانہ کی حفاظت کے لیے ضروری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…