جمعرات‬‮ ، 12 مارچ‬‮ 2026 

شہباز شریف اور زرداری کی سرگوشیوں میں باتیں۔۔۔!! نواز شریف کو شک ہو گیا،اپنے ہی بھائی پر نظر رکھنے کیلئے کس کو پیچھے لگا دیا؟معروف صحافی صابر شاکر کے سنسنی خیز انکشافات

datetime 19  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)آصف زرداری اور شہباز شریف کے درمیان قومی اسمبلی میں سرگوشیاں، نواز شریف نے کسے شہباز شریف کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کیلئے پیچھے لگا رکھا ہے، معروف صحافی صابر شاکر کے حیران کن انکشافات۔ تفصیلات کے مطابق معروف صحافی صابر شاکر نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ نواز شریف نے شہباز شریف کی

جاسوسی کیلئے ایم این اے اور سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی مرتضیٰ جاوید عباسی کو لگا رکھا ہے۔ صابر شاکر کا قومی اسمبلی میں شہباز شریف اور آصف زرداری کے درمیان ہونیوالی سرگوشیوں میں گفتگو سے متعلق کہنا تھا کہ جب دونوں کے درمیان مصافحہ ہوا تو اس وقت مرتضیٰ جاوید عباسی شہباز شریف کے پیچھے تھے جو کہ شہباز شریف کی سرگرمیوں سے متعلق نواز شریف کو آگاہ کرتے ہیں ادھر بھی وہ کوشش کر رہے تھے کہ دونوں کے درمیان ہونے والی گفتگو سن لیں۔مرتضیٰ جاوید عباسی نے دونوں کے قریب ہونے کی بھی کوشش کی لیکن آصف علی زرداری نے ان کو قریب ہوتے دیکھ لیاتھا۔جب مرتضیٰ جاوید عباسی نے شہباز شریف کے پاس آنے کی کوشش کی تو اُنہوں نے انہیں پیچھے کیا اور آصف زرداری کے کان میں اپنا پیغام دے دیا۔صابر شاکر نے مزید کہا کہ زرداری اور شہباز شریف دونوں کو ہی اپنے ایم این ایز پر یقین نہیں اور یہی وجہ ہے کہ دونوں سرگوشیوں میں پیغام رسانی کرتے ہیں۔واضح رہے کہ آج پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمینٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے کہاہے کہ پیپلزپارٹی اٹھارہویں ترمیم کے خلاف کوئی سازش کامیاب ہونے نہیں دے گی ، ہم نے آمروں کو شکست دی ہے، کٹھ پتلی کیا چیز ہے ، ہم نے نہ صرف آمر مشرف کو اقتدار سے بیدخل کیا بلکہ آئین کو اصل صورت میں بحال کرکے جمہوریت دشمنوں سے جمہوری انداز میں حساب برابر کر دیا ۔

شہید بھٹو اور محترمہ شہید بی بی صاحبہ نے ہمیں ڈرنا نہیں سکھایا۔ ہم اس سوچ کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں جو جمہوریت کو یرغمال بنا کر رکھنا چاہتی ہے ،ہمیں یقین ہے کہ ہم عوام کی طاقت سے اس سوچ کو شکست دیں گے۔ پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمینٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری سے پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کی

سیکریٹری اطلاعات ڈاکٹر نفیسہ شاہ اور سینیٹر مولا بخش چانڈیو کے زیر قیادت وفد نے زرداری ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات کی۔ وفد میں صوبائی سیکریٹری اطلاعات اور ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات شامل تھے جن میں پلوشہ بہرام، منور انجم، حسن مرتضی، سینیٹر روبینہ خالد، سعدیہ دانش ، بیرسٹر عامر حسن، سردار جاوید ایوب، سربلند خان، سحر کامران، نذیر ڈھوکی اور حافظ نعیم شامل تھے۔

وفد سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی اٹھارہویں ترمیم کے خلاف کوئی سازش کامیاب ہونے نہیں دے گی۔ ہم نے آمروں کو شکست دی ہے، کٹھ پتلی کیا چیز ہے۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ ماضی میں دو آمروں نے 1973ء کے آئین کو مسخ کرکے پارلیمنٹ کے اختیارات ہتھیا لئے۔ ہم نے نہ صرف آمر مشرف کو اقتدار سے بیدخل کیا بلکہ آئین کو اصل صورت

میں بحال کرکے جمہوریت دشمنوں سے جمہوری انداز میں حساب برابر کر دیا۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ شہید بھٹو اور محترمہ شہید بی بی صاحبہ نے ہمیں ڈرنا نہیں سکھایا۔ہم اس سوچ کی مذاحمت کر رہے ہیں جو سوچ جمہوریت کو یرغمال بنا کر رکھنا چاہتی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ ہم عوام کی طاقت سے اس سوچ کو شکست دیں گے۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی بنیاد میں شہیدوں کا خون ہے۔ یہ پارٹی کبھی کمزور نہیں ہوگی۔ پیپلزپارٹی کی قیادت نے حوصلے کے ساتھ مشکلات کا سامنا کیا اور غیرجمہوری عناصرکو شکست دی۔ آصف علی زرداری نے پارٹی عہدیداروں کو ہدایت کی کہ وہ پارٹی کے انفارمیشن ونگ کو مزید بہتر اور متحرک کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)


بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…