بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

مٹی کھائیں‌ اور موٹاپے کو دور بھگائیں : طبی ماہرین کا عویٰ

datetime 15  دسمبر‬‮  2018 |

کینبرا(مانیٹرنگ ڈیسک) آسٹریلیا کے طبی ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ انسان مٹی کھا کر اپنے موٹاپے سے نجات حاصل کرسکتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف ساؤتھ کے ماہرین ڈائریا کے مریضوں کو دی جانے والی ادویات کے مشاہدے کے لیے سر جوڑ کر

بیٹھے تو اُن کے سامنے گولی کا ایک اور نیا فائدہ بھی آیا۔ ماہرین کے مطابق وہ چینی مٹی سے تیار ہونے والی ادویات پر تحقیق کررہے تھے کہ یہ کس طرح انسان کے جسم میں جاکر محلول ہوجاتی ہے اور ڈائریا کے انفیکشن کو ختم کرتی ہے۔ تحقیق کے دوران ماہرین نے مشاہدہ کیا کہ جسم میں جانے کے بعد یہ مٹی سے تیار ہونے والی ادویات نہ صرف خود جزو بدن بن رہی تھیں بلکہ یہ انسانی جسم میں بننے والی چکنائی کو بھی جذب کررہی تھیں۔ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ٹینی ڈیننگ کا کہنا تھا کہ ’گولی میں موجود مٹی کے اجزا ٹوٹ کر بدن کا حصہ بننے کے بجائے چکنائی کے چھوٹے قطروں کو اپنے اندر جذب کررہے تھے اور انہیں بڑھنے سے روک بھی رہے تھے‘۔ اُن کا کہنا تھا کہ مٹی کے یہ زرات چکنائی کو ختم کر کے اسے فضلے کی صورت میں جسم سے باہر نکال رہے تھے، دوران تحقیق یہ مشاہدہ ہمارے لیے حیران کن اور غیر متوقع تھا‘۔ ٹینی ڈینگ کا کہنا تھا کہ ’مٹی کی خاصیت سامنے آنے کے بعد ہم نے چوہوں پر اس کا مشاہدہ کیا، اس ضمن میں دو گروپ بنائے گئے ایک میں موٹے اور دوسرے میں کمزور چوہے شامل کیے گئے‘۔ ’ہم نے چوہوں کو ’مونٹ موریلونائٹ‘ نامی مٹی چند ہفتے تک کھلائی جس کے بعد دیکھا کہ اُن کا وزن بالکل بھی نہیں بڑھا جبکہ دوسرے گروپ کے چوہوں کا وزن اوسطاً 50 فیصد تک بڑھ گیا تھا‘۔ اُن کا کہنا تھا کہ تجربے سے ثابت ہوا مٹی کو کھاکر موٹاپے سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے تاہم ابھی مٹی کی اقسام کے حوالے سے تحقیق کی جارہی ہے کہ کون سی مٹی مضر صحت نہیں، اگلے مرحلے میں انسانوں پر بھی اس کا تجربہ کیا جائے گا۔ انہوں نے ی بھی مشورہ دیا کہ روزانہ رات کو کھانے کے بعد اگر ایک چمچ موریلونائٹ مٹی کا استعمال کیا جائے تو وزن میں کافی حد تک کمی ہوسکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…