پیر‬‮ ، 09 فروری‬‮ 2026 

مقامی کمپنیوں نے جان بچانے والی ادویات کی پیداوار روک دی

datetime 11  دسمبر‬‮  2018 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) مقامی مینوفکچررز نے پیداواری اخراجات ریٹیل قیمت سے زائد ہونے کے بعد ملٹی ڈرگ ریزسٹینٹ (ایم ڈی آر) تپ دق (ٹی بی)، مختلف اعصابی امراض، کینسر اور جلد کی بیماریوں کی مختلف اقسام کے علاج کے لیے جان بچانے والی ادویات کی پیدوار روک دی۔ مینوفکچررز نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے ان کی

سفارشات کے مطابق قیمتیں نہیں بڑھائیں تو جان بچانے والی ادویات سمیت مختلف دوائیوں کا بدترین بحران پیدا ہوجائے گا۔ ادویات کمپنی نے کہا کہ روپے کی قدر میں 40 فیصد کمی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے بعد کمپنیاں موجودہ نرخ پر ادویات کی پیداوار جاری نہیں رکھ سکتیں۔ پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) کے چیئرمین زاہد سعید کے مطابق 800 لائسنس ہولڈرز کے مقابلے میں صرف 500 کمپنیاں اصل میں ادویات کی پیداوار کر رہی ہیں۔ ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ ناقابل برداشت پیداواری لاگت کے باعث ادویات ساز آہستہ آہستہ اپنی صنعتیں بند کر رہے ہیں۔ پی پی ایم اے چیئرمین نے ایسوسی ایشن کی جدوجہد، روپے کی قدر میں کمی کے بعد ادویات کی قیمتوں میں استحکام کے لیے اٹھائے گئے اقدامات اور سپریم کورٹ میں سماعت سے متعلق تفصیل سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مہینوں کی سماعت کے بعد 14 نومبر کو عدالت عظمیٰ نے ڈریپ اور حکومت کو ہدایت کی تھی کہ 15 روز میں نئی قیمتوں کا تعین کریں، تاہم ’اس حوالے سے حکومت کی جانب سے کوئی اقدام نہیں کیا گیا‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ اسی طرح سپریم کورٹ کی جانب سے ڈریپ کے پالیسی بورڈ کو ہدایت کی گئی تھی کہ 15 دن میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں اضافے کے بعد جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں کا جائزہ لیا جائے لیکن بدقسمتی سے ڈریپ اور حکومت کی جانب سے کوئی اقدام

نہیں اٹھایا گیا‘۔ زاہد سعید کا کہنا تھا کہ ادویات کی پیداوار کےلیے 90 فیصد خام مال سمیت پیکیجنگ کا سامان درآمد کیا جاتا ہے اور روپے کی قدر میں کمی کے بعد ادویات سازوں کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ موجودہ ریٹیل قیمت پر ادویات کی پیداوار کریں۔ پی پی ایم اے چیئرمین نے کہا کہ صنعتیں بند ہونے سے مہنگی ادویات درآمد کرنا پڑیں گی۔ انہوں نے ڈریپ اور وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ ادویات کی قیمتوں کا فوری طور پر جائزہ لیں اور

نئی قیمتوں سے متعلق سپریم کورٹ کو آگاہ کریں، بصورت دیگر سپریم کورٹ کی دی گئی فہرست اور ڈریپ کے فارمولے کو دیکھتے ہوئے مینوفکچررز خود سے ادویات کی قیمتیں بڑھانے پر مجبور ہوں گے۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’سپریم کورٹ کی ہدایت پر عمل نہ کرنے پر ہم ڈریپ کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دینے کا سوچ رہے ہیں، اس صورت میں ہم ڈرگ ریگولیٹر کے خلاف قانونی کے تحت کارروائی کریں گے‘۔



کالم



بٹرفلائی افیکٹ


وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…