بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

پچاس کروڑڈالرکا کالا دھن بیرون ملک بھیجنے کی کوشش ناکام

datetime 20  مئی‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک) فیڈرل بورڈآف ریوینو (ایف بی آر)کے ماتحت ادارے انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو نے بیرون ملک50 کروڑ ڈالر کاکالا دھن منتقل کرنے کی کوشش ناکام بنادی۔
ذرائع نےنجی ٹی وی کو بتایاکہ گزشتہ سال پاکستان سے4ارب ڈالرکے کالادھن کی منتقلی اوردبئی میں ریئل اسٹیٹ بزنس میں انویسٹ ہونے کی نشاندہی کے بعد وفاقی حکومت نے کالے دھن کی بیرون ملک منتقلی روکنے کیلیے سخت ترین ہدایات جاری کی ہیں جس کی روشنی میں ڈائریکٹر جنرل آئی اینڈآئی ہارون ترین نے ڈائریکٹرآئی اینڈآئی کراچی شمس الہادی کو پاکستان میں اچانک منظرعام پرآنے والی NSHMA نامی دبئی کی کمپنی کی مشکوک سرگرمیوں کی نگرانی کی ہدایات جاری کیں جنھوں نے ڈپٹی ڈائریکٹرآئی اینڈ آئی کراچی آصف ابڑوکی قیادت میں 13 رکنی انسپکشن ٹیم تشکیل دی۔ذرائع نے بتایاکہ انسپکشن ٹیم نے جب ابتدائی تحقیقات کیں تومعلوم ہواکہ ایک بھارتی شہری رگوراج بال کرشناNSHMA کا CFO اور ماسٹر مائنڈ ہے۔بعدازاں ٹیم نے مقامی فائیواسٹارہوٹل میں منعقدہNSHMA کے بکنگ پروگرام پرچھاپہ مارا اوروہاں موجود NSHMA ٹیم کے سربراہ مسٹر ولیم سے پوچھ گچھ کی جو کینیا کی شہریت رکھتا ہے۔
آئی اینڈ آئی ٹیم کے سوالات کے تسلی بخش جوابات نہ دینے پرٹیم نے مسٹرولیم کاذاتی لیپ ٹاپ اور3جدیدترین سسٹم کے حامل آئی پیڈزاپنے قبضے میں لے لیے۔ذرائع نے بتایاکہ پاکستان میں کاروبار کرنے یاسرمایہ منتقل کرنے کے حوالے سے NSHMA کے پاس نہ تووفاقی وزارت داخلہ،تجارت،خزانہ اورنہ ہی وزارت خارجہ کااین او سی ہے اورنہ ہی مذکورہ کمپنی پاکستان میں رجسٹرڈہے۔آئی اینڈآئی چھاپہ مار ٹیم کے استفسار پرمسٹر ولیم نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ان کے پاس قانونی اور کالے دھن کے فرق کی جانچ کاکوئی معیار نہیں بلکہ وہ دبئی ریئل اسٹیٹ میں انویسٹ کرنے کے خواہشمندپاکستانیوں کی رقم کسی بھی ذرائع سے دبئی منتقل کرتے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ مسٹر ولیم سے قبضے میں لیے جانیوالے لیپ ٹاپ اورآئی پیڈز میں اس طرح کے جدیدسوفٹ ویئر انسٹال ہیں کہ جس کے توسط سے جوں ہی کسی پاکستانی سرمایہ کارکی کمپنی کے ساتھ ڈیل کامیاب ہوجاتی ہے اوراس کامیاب ڈیل کو خودکار سسٹم میں جوں ہی ڈالی جاتی ہے وہ فوری طورپردبئی کے سرورپرمنتقلی کے ساتھ ہی ڈیلیٹ ہوجاتی ہے،آئی اینڈ آئی حکام نے آئی ٹی ماہرین کی خدمات حاصل کرلی ہیں جوجلدہی ان پاکستانیوں کا ڈیٹا نکالنے میں کامیاب ہوجائیںگے جوپاکستان میں جاری فنانشل ا?پریشن کے خوف سے اپناکالا دھن بیرون ملک منتقل کررہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…