بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

رال ٹپکنے کے مسئلے پر قابو پانا کیسے ممکن ہے؟

datetime 4  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) کیا اکثر صبح اٹھنے پر آپ کو تکیہ گیلا ملتا ہے اور اس کی وجہ رال ٹپکنا ہوتی ہے؟ اگر ہاں تو یہ کوئی غیرمعمولی بات نہیں مگر یہ مقدار بہت زیادہ ہو تو یہ کسی مرض کی علامت یا جسم میں کچھ گڑبڑ کی نشانی ہوسکتی ہے۔ رال کیوں ٹپکتی ہے۔

جب ہم سوتے ہیں تو چہرے کے مسلز بہت زیادہ پرسکون ہوجاتے ہیں، نیند کے دوران بھی تھوک منہ میں جمع ہوتا رہتا ہے جو کہ پرسکون چہرے کے مسلز کی بدولت آہستگی سے اس وقت باہر نکلنے لگتا ہے جب منہ ہلکا سا کھلا ہوا ہو، مگر تکیہ گیلا ہونا کچھ زیادہ اچھا نہیں لگتا۔ رال کی مقدار زیادہ ہونا کسی اعصابی مرض کی علامت یا ناک بند ہونے کا نتیجہ ہوسکتی ہے، مگر اچھی بات یہ ہے کہ اس مسئلے پر قابو پانا کچھ زیادہ مشکل نہیں۔ ناک کی صفائی رال ٹپکنے کی ایک بنیادی وجہ ناک بند ہونا ہوتی ہے جس کی وج ہسے لوگ نیند کے دوران منہ سے سانس لینے پر مجبور ہوتے ہیں اور یہ مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے، ناک کی صفائی اور اسے کھولنا اس مسئلے سے بچنے کا ایک اچھا ذریعہ ہے، اس کے لیے کچھ تیل جیسے یوکلپٹس آئل اس مسئلے سے بچانے میں مدد دے سکتا ہے جبکہ وکس بھی ناک کو کھولتا ہے۔ سونے کا انداز بدلیں پیٹ کے بل یا پہلو کے بل سونا اس مسئلے کو زیادہ بڑھانے کا باعث بن سکتا ہے، جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ نیند کے دوران تھوک جمع ہوتا ہے جو اس طرح سونے سے منہ سے باہر نکل کر تکیے پر پھیل جاتا ہے، تو سونے کا انداز بدلنا بھی اس سے بچاسکتا ہے اضافی وزن کم کریں اضافی جسمانی وزن نیند کے عمل میں اہم کردار کرتا ہے، اس کے باعث سلیپ اپنیا کا عارضہ لاحق ہوتا ہے جو کہ خراٹے لینے پر مجبور کرتا ہے جس سے رال ٹپکنے کا خطرہ بڑھتا ہے۔ سر اونچا رکھیں۔ کسی زیادہ بلند تکیے پر سر رکھنا بھی اس مسئلے سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…