جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

کاروباری ہفتے کا اختتام، ڈالر اونچی اُڑان اور پھر سٹیٹ بینک کے میدان میں آنے کے بعد اب کتنے کا ہوگیا؟ملکی زرمبادلہ کے ذخائرکتنے ہوگئے؟ حیرت انگیز انکشافات

datetime 30  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

کراچی (این این آئی)انٹر بینک میں ڈالر دوران ٹریڈنگ تاریخ کی بلند ترین سطح 142 روپے کو چھو گیا، مگر مرکزی بینک کی مداخلت سے ڈالر 138 روپے 50 پیسے کا ہوگیا۔کاروباری ہفتے کے آخری روز انٹر بینک میں ڈالر 8 روپے اضافے سے تاریخ کی بلند ترین سطح 142 روپے پر ٹریڈ کرنے لگا، ذرائع کے مطابق ڈالر کی بڑھتی قیمت کو دیکھتے ہوئے اسٹیٹ بینک نے کمرشل بینکوں سے رابطے کر کے صرف حقیقی خریداروں کو ڈالر فروخت کرنے کے احکامات جاری کیے،

جس سے ڈالر 142 روپے سے نیچے آکر 138 روپے 50 پیسے کا ہوگیا، مگر ڈالر جمعرات کے حساب سے اب بھی ساڑے 4 روپے مہنگا ہوچکا ہے۔معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق تجارتی خسارہ اور قرض و سود کی ادائیگیوں کے باعث ہر ہفتے زرمبادلہ کے ذخائر میں اوسط 200 ملین ڈالر کی کمی ہو رہی ہے، موجودہ معاشی حالات کو دیکھتے ہوئے امپوٹرز ڈالر کی بڑھ چڑھ کر خریداری کر رہے ہیں۔سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق ملکی مجموعی زرمبادلہ ذخائر بڑھ کر 14 ارب 57 کروڑ ڈالر ہو گئے ہیں۔بینک نے ایک رپورٹ میں بتایا کہ 23 نومبر تک بیرونی قرض اوردیگر ادائیگی کی مد میں 22.5 کروڑ ڈالر ادا کیے گئے ہیں۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق رواں ماہ سعودی عرب سے ایک ارب ڈالر ملے ہیں۔اس سے اسٹیٹ بینک کے پاس موجود ذخائر کی مالیت میں 77.6 کروڑ ڈالر کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ مرکزی بینک کے ذخائر بڑھ کر 8.06 ارب ڈالر ہو گئے ہیں جبکہ کمرشل بینکوں کے پاس 6.51 ارب ڈالر کے ذخائر موجود ہیں۔خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان کچھ عرصہ قبل سعودی عرب کے دورے پر گئے تھا جس کے بعد اعلان کیا گیا تھا کہ سعودی عرب پاکستان کو 12 ارب ڈالر کا امدادی پیکج دینے پر رضا مند ہے۔موجودہ حکومت کرنٹ اکانٹ خسارہ دور کرنے اور معیشت کی حالت بہتر کرنے کیلئے کوششیں کررہی ہے۔ اس سلسلے میں حکومت نے چین اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے بھی مذاکرات کیے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…