پیر‬‮ ، 02 مارچ‬‮ 2026 

اقوام متحدہ نے پاکستان کو ایسے ممالک کی فہرست میں ڈال دیا کہ جان کر پاکستانی اپنے حکمرانوں پر ہی برس پڑینگے، یہ فہرست کن ممالک کی ہے ؟افسوسناک اعدادوشمار بھی جاری کر دئیے گئے

datetime 28  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

لاہور(نیوز ڈیسک) اقوامِ متحدہ نے پاکستان کو ایشیا پیسفک ممالک کی اس فہرست میں شامل کردیا ہے جو سماجی بہبود، تعلیم اور صحت عامہ پر سب سے کم رقم خرچ کرتے ہیں۔اقوامِ متحدہ کے اقتصادی و سماجی کمیشن برائے ایشیائی اور پیسفک ممالک کی جاری کردہ رپورٹ سوشل آئوٹ لک فار ایشیا اینڈ دا پیسفک 2018 میں بتائے گئے دیگر ممالک میں بنگلہ دیش، انڈونیشیا، لاس، نیپال اور

مشرقی تیمور شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق مشرقی تیمور کے علاوہ گروپ میں موجود دیگر تمام ممالک اپنی مجموعی ملکی پیداوار کا محض 5 فیصد حصہ تینوں سماجی شعبہ جات پر خرچ کرتے ہیں جو خطے میںرائج اوسط 9 فیصد سے بھی کم ہے۔ان میں سے اکثریت کم آمدنی والے ممالک ہیںجن کے انسانی اور دیگر وسائل تنازعات اور قدرتی آفات کی وجہ سے زوال پذیر ہیں۔اس گروپ کے ممالک کو درپیش سب سے بڑا چیلنج عوام پر سرمایہ کاری کرنے کے لیے سیاسی عزم ہونا اور عوامی حمایت حاصل کرنا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ ایک جانب ایشیا پیسفک خطے کے تمام ممالک پرائمری سکولوں میں اندراج کی شرح بڑھ کر 90 فیصد ہونے سے بنیادی تعلیم میں خاصی بہتری رونما ہوئی تو دوسری جانب ثانوی تعلیم میں داخلے کی شرح خاصی مختلف ہے جبکہ پاکستان اور کمبوڈیا میں یہ محض 45 فیصد ہے۔واضح رہے کہ ایشیا پیسفک خطے میں ترقی پذیر ممالک اپنی ملکی مجموعی پیداوار کا صرف 3.7 فیصد سماجی بہبود کے شعبہ جات پر خرچ کرتے ہیں جبکہ دنیا بھر میں یہ اوسط 11.2فیصد ہے۔رپورٹ کے مطابق اس کم سرمایہ کاری کی بدولت ایشیا پیسفک ممالک کی 60 فیصد آبادی کو بیمار پڑنے، معذور ہونے، بے روزگار ہونے، حاملہ ہونے اور بڑھاپے میں قدم رکھنے کی صورت میں کسی قسم کا کوئی تحفظ حاصل نہیں۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ مجموعی طور پر خطے

میں جی ڈی پی سے تینوں سماجی شعبہ جات میں کیے جانے والے اخراجات کو عالمی اخراجات کی سطح تک پہنچنے کے لیے ہر سال 281 ارب ڈالر اضافی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔چنانچہ ان ممالک کو سماجی تحفظ کے پروگراموں پر 2 تہائی مزید اخراجات کرنے کی ہدایت دینے کی ضروت ہے۔اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایشیا پیسفک خطے میں 1.2 ارب افراد اب بھی 3.20 ڈالر

روزانہ آمدنی سے کم میں زندگی گزار رہے ہیں۔جس میں سے 40 کروڑ افراد 1.90 ڈالر روزانہ آمدن کے باعث خط غربت سے نیچے خاصی مشکل زندگی گزار رہے ہیں، اس تعداد میں سے 2 تہائی افراد جنوبی ایشیا بالخصوص بھارت میں مقیم ہے۔رپورٹ میں اس کے حل کی جانب توجہ دلاتے ہوئے بتایا گیا کہ اس کے لیے ان ممالک کی حکومتوں کو سماجی بہبود، تعلیم اور صحت عامہ کے شعبوں میں عوام پر کیے جانے والے اخراجات میں اضافہ کرنا ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



امانت خان شیرازی


بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…