ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

جس نے بھی شاہ سلمان اور محمد بن سلمان کی طرف ہاتھ بڑھایا اس کیساتھ کیا سلوک کیا جائیگا؟سعودی وزیر خارجہ کا دھماکہ خیز اعلان

datetime 20  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

ریاض(این این آئی)سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے کہاہے کہ صحافی جمال خاشقجی کے معاملے میں منصفانہ تفتیش بین الاقوامی برادری سے زیادہ سعودی عرب کے لئے اہم ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اٰیک انٹرویومیں عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ان کے ولی عھد شہزادہ محمد بن سلمان ریڈ لائن کی حیثیت رکھتے ہیں۔

ہم انہیں گزند پہنچانے کی ہرگز اجازت نہیں دے سکتے۔انھوں نے ترکی سے اپیل کی کہ وہ اس قتل سے متعلق مزید شواہد سعودی استغاثہ میں پیش کرے تاکہ مکمل حقائق جاننے میں مدد مل سکے۔ وزیر خارجہ کے بقول ترکی اس امر کا اظہار پہلے ہی کر چکا ہے کہ ولی عھد کا اس قتل سے کوئی تعلق نہیں۔سعودی وزیر خارجہ نے یہ بات زور دے کر کہی کہ مملکت کی قیادت امریکا کے ساتھ اپنے تاریخی تزویراتی تعلقات اور شراکت کا تحفظ اور انہیں مضبوط بنانے کی خواہش مند ہے۔ انھوں نے اس جانب سے خصوصی طور پر ذکر کیا کہ امریکا نے خاشقجی کے قتل میں ملوث افراد کے جن افراد پر پابندیاں عائد کی ہیں وہ سب شخصی نوعیت کی ہیں، ان کا مملکت کی حکومت اور معیشت سے چنداں کوئی تعلق نہیں ہے۔عادل الجبیر نے واضح کیا کہ مملکت نے سے پہلے خود جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث مشتبہ افراد کے خلاف اقدام اٹھائے جس کے بعد مختلف ملکوں نے ان مشتبہ افراد پر پابندیاں عاید کیں۔ ایسی پابندیاں ہمارے اور اتحادیوں کے درمیان تزویراتی مفادات اور مشترکہ سیاسی ومعاشی مفادات کو چنداں متاثر نہیں کرتیں۔انھوں نے بتایا کہ سعودی عرب کے اس معاملے میں اپنا موقف تبدیل نہیں کیا۔ عادل الجبیر کے بقول کہ قتل کی کارروائی کرنے والوں نے گمراہ کن اور جھوٹی رپورٹ پیش کی، جب اس رپورٹ میں پیش کردہ تفصیل حقائق کے منافی ظاہر ہوئی تو خادم الحرمین الشریفین نے سعودی پراسیکیوٹر کو تحقیقات کا حکم دیا، جس کے بعد سامنے آنے والے حقائق کا اعلان کیا گیا۔ ریاض نے اس معاملے میں کوئی کہانی نہیں سنائی بلکہ ملنے والی معلومات کو شفاف انداز میں سامنے لائے اور ہم ایسا کرتے رہیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…