ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

یورپین پارلیمنٹ میں آسیہ بی بی سے متعلق ہونے والی پارلیمانی بحث کیوں اور کس کے کہنے پر ملتوی کی گئی؟جانئے

datetime 13  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

برسلز(این این آئی)یورپین پارلیمنٹ نے آسیہ بی بی کیس کے حوالے سے اسی ہفتے ہونے والی پارلیمانی بحث ملتوی کردی۔ اس بات کا اعلان گزشتہ روز یورپین پارلیمنٹ کے صدر انتو نیو تاجانی نے پارلیمنٹ کے سٹراس برگ میں جاری اجلاس میں فرینڈز آف پاکستان گروپ کے چیئرمین ڈاکٹر سجاد کریم ایم ای پی کی درخواست پر کیا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یورپین پارلیمنٹ کے صدر نے تمام پارلیمانی گروپس کی مشاورت سے اس ہفتے آسیہ بی بی کیس کے حوالے سے ایک ڈیبیٹ رکھی تھی۔ ڈاکٹر سجاد کریم ایم ای پی نے پارلیمنٹ کے سامنے تجویز پیش کی کہ کیونکہ آسیہ بی بی کیس پر پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت اپنا فیصلہ دے چکی ہے۔ لیکن فریق مخالف نے اپنا قانونی حق استعمال کرتے ہوئے اس کے خلاف اپیل کی ہے۔انہوں نے پارلیمنٹ میں موجود صدر اور تمام موجود ممبران کو مخاطب کرتے ہوئے درخواست کی کہ پاکستان میں یہ کیس انتہائی اہم اور نازک مرحلے میں ہے ۔ اس موقع پر اگر پارلیمنٹ نے اس موضوع پر بحث کو آگے بڑھایا تو ممکن ہے کہ اس کو غلط رنگ پہنایا جائے اور اس کا نقصان آسیہ بی بی کیس کو پہنچے ، اس لیے مناسب ہوگا کہ یہاں پارلیمنٹ میں اس بحث کو ملتوی کردیا جائے اور پارلیمنٹ کے صدر کو یہ اختیار دے دیا جائے کہ وہ اس مسئلے پر خود فیصلہ کرلیں۔اس موقع پر یورپین پارلیمنٹ کے صدر انتو نیو تاجانی نے ممبران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی بھی رکن کو اعتراض نہ ہو تو وہ ڈاکٹر سجاد کریم کی تجویز کو قبول کرتے ہیں تاکہ آسیہ بی بی اور اس کی فیملی کے لئے مزید خطرات میں اضافہ نہ ہو ۔بعد ازاں انہوں نے یہ بحث ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔یادرہے کہ ڈاکٹر سجاد کریم آسیہ بی بی کیس کو جلد از جلد منصفانہ طریقے سے حل کرنے کے بڑے داعی رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…