منگل‬‮ ، 07 اپریل‬‮ 2026 

سعودی بادشاہ شاہ سلمان کے خلاف بغاوت کی خبریں، شہزادہ خالد بن فرحان السعود کے اعلان کے بعد کھلبلی مچ گئی، دھماکہ خیز انکشافات

datetime 12  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

ریاض (نیوز ڈیسک) سعودی شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے ناراض شہزادے خالد بن فرحان السعود کا کہنا ہے کہ فرمانروا شاہ سلمان اور ان کے وارث پرنس محمد بن سلمان کے خلاف کسی بھی وقت بغاوت ہوسکتی ہے۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ آنے والے دنوں میں بادشاہ اور ولی عہد کے خلاف بغاوت ہوگی۔ شہزادے خالد بن فرحان نے صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے ذمہ داران کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ

انہیں اس بات کا یقین ہے کہ اس قتل کے احکامات محمد بن سلمان کے علاوہ کسی نے جاری نہیں کیے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب کے جلاوطن شہزادے خالد بن فرحان السعود نے الزام لگایا ہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کی مبینہ گمشدگی کے پیچھے ولی عہد محمد بن سلمان کا ہاتھ ہے اور سعودی حکمراں کسی نہ کسی پر الزام دھرنے کیلئے قربانی کا کوئی بکرا ڈھونڈ ہی لیں گے۔جرمنی میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے سعودی شاہی خاندان کے اس رکن نے ایک انٹرویومیں کہا کہ میں جانتا ہوں کہ جمال خاشقجی کے سعودی شاہی خاندان کے ارکان سے تعلقات تھے اور وہ اس طرز عمل کے مخالف تھے کہ انہیں اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی کسی شخصیت کے طور پر پیش کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ جمال خاشقجی سعودی شاہی خاندان کیلئے باالکل کوئی سیاسی خطرہ نہیں تھے، وہ تو اپنی تنقید میں بھی محتاط رہتے تھے ٗ وہ ریاض میں حکمرانوں کے لیے کوئی براہ راست خطرہ تو قطعی نہیں تھے۔ایک سوال کے جواب میں سعودی شہزادے کے مطابق میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ جمال خاشقجی کے معاملے میں شاہ سلمان ذاتی طور پر ملوث رہے ہوں گے تاہم مجھے یقین ہے کہ خاشقجی کی گمشدگی اور پھر مبینہ قتل کا فیصلہ اور اس پر عمل درآمد ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی طرف اشارے کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاض میں ملکی قیادت اس مبینہ قتل کے سلسلے میں خود کو کسی بھی طرح کی ناخوشگوار صورت حال سے بچانے کے لیے کوئی نہ کوئی قربانی کا بکرا تلاش کر ہی لے گی جس پر جمال خاشقجی کی گمشدگی اور ہلاکت کا الزام دھرا جا سکے۔

انہوں نے کہاکہ جمال خاشقجی کے معاملے کی وجہ سے سعودی شاہی خاندان کو طویل عرصے بعد ایسے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ٗ جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔خالد بن فرحان السعود نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ جو ریاست اپنے ہی کسی شہری کو غائب کروا دے ٗاسے قتل کر دیا جائے اور پھر اس کی لاش کے ٹکڑے کر دیئے جائیں ٗوہ ریاست کس حد تک انصاف پسند اور اس کے حکمراں کس حد تک عوام کے حقیقی نمائندے ہو سکتے ہیں؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)


جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…