اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)معروف صحافی، تجزیہ کار اور کالم نگار ہارون الرشید اپنے کالم میں ایک جگہ انکشاف کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ میاں محمد نواز شریف اچانک کوئٹہ کے سابق کور کمانڈر جنرل ناصر جنجوعہ کے گھر تشریف لے گئے۔ قیاس آرائی یہ ہے کہ ای سی ایل سے اپنا نام نکلوانے کیلئے۔ جنرل کا اس سے کیا تعلق؟ کاش یہ توفیق وزیراعظم کو ہوتی۔ کاش ڈھنگ کا کوئی آدمی ان موصوف کے اردگرد بھی ہوتا۔ جنرل کیانی کے عہد میں جنرل جنجوعہ کے تقرر سے اس دور کا آغاز ہوا، جس نے تاریخ کا ایک
سنہری باب رقم کیا۔ بلوچستان پر ان سے بہتر مشیر کوئی نہیں۔ 14اگست 2015کو زیارت میں ایک پریشان بلوچ لڑکے کو دیکھا۔ اپنا دکھ اس نے بیان کیا۔ اپنا پتہ لکھوایا اور بولے: تمہارا مسئلہ اب میرا مسئلہ ہے۔ اگلے برس جنرل عامر ریاض کو یہی جملہ ڈیرہ بگٹی کے ایک نوجوان سے کہتے سنا۔ رخصت ہوتے جنرل جنجوعہ نے کہا تھا:صرف نام بدل گیا ہے ، کل بھی کوئٹہ میں، میں ہی موجود رہوں گا اور پرسوں بھی۔ بلوچستان کی وسعتوں میں جنرل جنجوعہ ہمیشہ رہیں گے۔ اس کے گھر گھر میں ہمیشہ بسیں گے۔



















































