جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

بزدل بھارتی فوج کنٹرول سے باہر، سول آبادی کو بھی نہ بخشا، گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے علاقہ گونج اٹھا، کئی افراد نشانہ بن گئے ،پاک فوج کا بھرپور جواب،دشمن کی گنوں کو سانپ سونگھ گیا

datetime 10  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

چناری(آن لائن)آزاد کشمیر کے ضلع ہٹیاں بالاسے ملحقہ وادی لیپہ سیکٹر پر بھارتی فوج کی سول آبادی پر دو گھنٹے تک بلااشتعال فائرنگ ،چار افراد شدید زخمی، تعلیمی ادارے بند، پاک فوج کی بھر پور جوابی کارروائی کے بعد بھارتی گنیں خاموش ہو گئیں۔تفصیلات کے مطابق بھارتی فوج نے وادی لیپہ کے سرحدی دیہاتوں بٹلیاں،غئی پورہ اوربجلدارپر چھوٹے بڑے ہتھیاروں سے فائرنگ کی۔

جس سے منیرولد عبدالستار،ناصر علی ولد عبدالستار، ظہیر احمد ولد عبداللہ ساکنان بجلداراورمحمد شوکت ولد امیراللہ ساکنہ بٹلیاں شدید زخمی ہو گئے زخمیوں کو ایم ڈی ایس لیپہ منتقل کر دیا گیا جہاں پر زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ بھارتی بزدل فورس نے سول آبادی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جس سے چار افراد زخمی ہوئے جن میں ایک زخمی کا بازو الگ ہو گیا جبکہ دوسرے زخمی کے سر میں شدید چوٹیں آئیں عوام کی بڑی تعدادنے زخمیوں کو مقامی ہسپتال منتقل کیا ۔بھارتی فائرنگ کا پاک فوج نے موثر جواب دیاجس کے بعدبھارتی فوج کی گنوں کوسانپ سونگھ گیا۔بھارتی فائرنگ کے باعث لیپہ کے تمام سرکاری اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو حفاظتی نقطہ نظر کے تحت بند کر دیا گیا۔سول آبادی پر بھارتی فائرنگ اور عدم سہولیات کے خلاف مقامی لوگوں نے ایک احتجاجی مظاہرہ منعقد کیااحتجاجی مظاہرہ میں شرکاء نے اقوام عالم سے لائن آف کنٹرول پر بھارتی فائرنگ بند کروانے اور حکومت آزاد کشمیر سے بھارتی فائرنگ سے سول آبادی کے بچاؤ کے لیے سہولیات فراہم کر نے کا مطالبہ کیا ۔ مظاہرین اس موقع پر بھارت مخالف اور پاک فوج کے حق میں نعرے بازی بھی کرتے رہے۔ دریں اثناء وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان اور پاکستان پیپلز پارٹی آذاد کشمیر کے مرکزی نائب صدر صاحبزادہ محمد اشفاق ظفر ایڈووکیٹ نے لیپہ سیکٹر کی سول آبادی پر بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے نوٹس لینے اور اسے بند کروانے کا مطالبہ کیا ہے انھوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے بھی دعا کی ہے ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…