جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

کے الیکٹرک کو فروخت سے قبل واجبات کا معاملہ حل کرنا ہوگا

datetime 9  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی نے کہا ہے کہ کے الیکٹرک کی شہنگائی الیکٹرک کو فروخت سے پہلے کمپنی کو تمام واجبات کے معاملے کو حل کرنا ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق سینیٹر فدا محمد کی سربراہی میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں کے الیکٹرک اور دیگر سرکاری اداروں کے درمیان جاری مالی تنازع کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔

کے الیکٹرک انتظامیہ نے بتایا کہ کمپنی مختلف مد میں حکومت کی 50 ارب روپے کی رقم واجب الادا ہے لیکن اسی دوران مختلف سرکاری محکموں اور کمپنیوں کو بجلی کمپنی کے 65 ارب روپے ادا کرنے ہیں۔ بجلی کی فراہمی میں ناکامی، کے الیکٹرک پر 50 لاکھ روپے جرمانہ اس ضمن میں ایک تجویز دی گئی کہ تمام اداروں پر زیر التوا ادائیگیوں کے لیے قرضے کا تبادلہ ہونا چاہیے جبکہ کمیٹی ارکان نے اس تجویز کو سراہا لیکن بیوروکریسی نے اس کی مخالفت کی۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا تھا کہ تنازع کے باعث کے الیکٹرک اور سینٹرل پاور پرچیز کمپنی کے درمیان بجلی کی خریداری کا کوئی معاہدہ نہیں ہوسکا جبکہ کے الیکٹرک نے 3 سال تک جمود کو برقرار رکھنے کے لیے سندھ ہائیکورٹ سے ایک حکم امتناع حاصل کیا تھا۔ اجلاس کے دوران سیکریٹری توانائی عرفان الٰہی کا کہنا تھا کہ کے الیکٹرک کو نیشنل ڈسپیچ اور ٹرانسمیشن کمپنی، سینٹرل پاور پرچیز کمپنی اور سوئی سدرن گیس کمپنی اور دیگر اداروں کو رقم کی ادائیگی کرنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک جانب کے الیکٹرک کو ادائیگی کرنی ہے تو دوسری جانب کچھ سبسڈی کی رقم ہے جو وزارت خزانہ نے دینی ہے، اس کے علاوہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج (کے ڈبلیو ایس بی) کے بل التوا کا شکار ہیں کہ کیوں وفاقی حکومت کو کیوں ان بلوں کی ادائیگی کرنی چاہیے‘۔ بحرانی صورتحال سے بچنے کے حوالے سے ایک سوال پر سیکریٹری توانائی کا کہنا تھا کہ اس صورتحال سے نکلنے کا بہترین طریقہ کے الیکٹرک اور دیگر حکومتی اداروں کے درمیان دو طرفہ معاہدے ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ’ ہماری تجویز ہے کہ کے الیکٹرک اور ایس ایس جی سی اور دیگر اداروں کے درمیان تمام معاملات ٹھیک کرنے کے لیے دو طرفہ معاہدہ ہونا چاہیے لیکن میں یہ تجویز دوں گا کہ یہ اس وقت ہی ممکن ہے کہ اگر سینیٹ کمیٹی اقدامات کرے اور وزارت خزانہ کو ہدایت دیں کہ وہ کے الیکٹرک، پاور ڈویژن اور پیٹرولیم ڈویژن کا مشترکہ اجلاس منعقد کریں‘۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…