پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

عافیہ صدیقی امریکی قید سے عمران خان کو خط لکھتی رہیں مگر کونسا اعلیٰ پاکستانی عہدیدار وزیراعظم تک عافیہ کا پیغام نہیں پہنچا رہا تھا، ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کا سنسنی خیز انکشاف، عمران خان سے کیا درخواست کر دی

datetime 7  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

کراچی (نیوز ڈیسک)قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کی امریکی حراست میں 5700 دن مکمل ہو گئے ہیں، ان کی امریکی جیل سے رہائی اور وطن واپسی کیلئے اندرون و بیرون ملک جدوجہد اور خصوصی دعائوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ڈاکٹر عافیہ کی ہمشیرہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا ہے کہ عافیہ کی واپسی کے حوالے سے قوم اور عافیہ کی فیملی کو وزیراعظم عمران خان سے بہت زیادہ امیدیں

وابستہ ہیں۔تاریخ ایک مرتبہ پھر اپنے آپ کو دہرارہی ہے۔ زندان سے ایک معصوم بیٹی نے ایک مسلم حکمران کو مدد کیلئے پکارا ہے۔ کیا وزیراعظم معصوم بہن کی پکار پر لبیک کہیں گے؟ جس سے امیدیں زیادہ ہوںاگر وہ توقعات پر پورا نہ اترے تو صدمہ بھی زیادہ پہنچتا ہے۔ ڈاکٹر عافیہ کی والدہ عصمت صدیقی ایک مرتبہ پھر علیل ہیں ان کی صحت ایک اوردھوکہ برداشت کرنے کے قابل نہیں ہے۔ قوم سے ان کی صحتیابی، عافیہ کی جلد رہائی اور ملاپ کیلئے دعائوں کی اپیل ہے۔ عافیہ موومنٹ ، لکی مروت کے آرگنائزرز انعام اللہ مروت ، انور خان و دیگر نے ڈاکٹر عافیہ کی جلد وطن واپسی اور ان کی والدہ کی صحتیابی کیلئے قرآن خوانی اور خصوصی دعا کی تقریب کا اہتمام کیا ۔عافیہ موومنٹ میڈیا انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا ہے کہ عافیہ نے سابقہ حکومتوں کے بعد اب وزیراعظم عمران خان سے بھی رہائی کی اپیل کی ہے۔میں نے گذشتہ ہفتے اسلام آباد میں عافیہ کی رہائی کے سلسلے میں وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری صاحبہ سے ملاقات کی تھی جبکہ وزیرخارجہ محمود شاہ قریشی صاحب سے ملاقات نہیں ہوسکی تھی۔ڈاکٹر فوزیہ نے مزید کہا کہ میں عافیہ کی رہائی کے سلسلے میں وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کرناچاہتی ہوں تا کہ ذاتی طور پر عافیہ کا پیغام ان تک پہنچا سکوں اور عافیہ کی وطن واپسی کے معاملے پر دیگر انتہائی

اہم امور سے وزیراعظم کو آگاہ کرسکوں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں عافیہ کی رہائی کے سلسلے میں ہمارا موقف اور عوام کے جذبات حکمرانوں تک نہیں پہنچائے جارہے تھے۔مجھے لگتا ہے یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے کیونکہ ڈاکٹر عافیہ نے ایک مہینہ قبل پاکستانی قونصل جنرل عائشہ فاروقی سے ملاقات میں وزیراعظم کے نام پیغام بھیجا تھا جو کہ ایک مہینے بعد کافی کاوشوں کے بعد منظر عام

پر آیاہے جو تشویش کا باعث ہے۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ اصل کام کرنے والے ہوتے ہیں ان تک بات پہنچائی ہی نہیں جاتی ہے اور خطوط نہ جانے کن الماریوں کی زینت بن جاتے ہیں۔ اس لئے میں وزیراعظم سے ملاقات کرنا چاہتی ہوں تاکہ دل کو تسلی ہوجائے کہ پیغام مطلوبہ مقام تک پہنچ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عافیہ کی رہائی کیلئے وہی ایک دستخط کا سوال عمران خان سے ہے جس کا سوال نواز شریف سے تھا۔ ہم امید کرتے ہیں پی ٹی آئی کی حکومت یہ کام کرے گی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ ملکی مفاد کواولین ترجیح دے کر باوقار طریقہ سے عافیہ کی رہائی اور وطن واپسی کی جدوجہد کی ہے اور یہ جدوجہد ان شاء اللہ عافیہ کی وطن واپس تک اس طرح پرامن، باوقار اور قانون کے دائرے میں جاری رہے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…