ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

دْنیا کے بلند ترین شہر میں انسانی زندگی پر اثرات کی جان کاری کی مہم

datetime 7  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

پیرس(این این آئی)اٹلی اور فرانس کے 14 سائنسدانوں نے آئندہ جنوری میں دنیا کے بلند ترین شہر کے مطالعاتی دورے کا اعلان کیا ہے۔ سائنسدان یہ جاننا چاہتے ہیں کہ بلند ترین شہرمیں رہنے والے لوگوں کی جسمانی کیفیات زمین کے دوسرے حصوں میں آباد لوگوں سے کس طرح مختلف ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ وہ اس مشن سے یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ آیا کم سے کم آکسیجن کے ماحول میں انسانی جسم میں کیا دفاعی میکنزم اختیارکرتا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ سائنسی تحقیقاتی مشن فرانسیسی بین الاقوامی ریسرچ انسٹیٹیوٹ فار ہیلتھ اینڈ سائنس ریسرچ کی جانب سے پیرو کے بلند وبالا شہر لارینکوناڈا بھیجا جائے گا۔تحقیقاتی مشن میں شامل سائنسدانوں نے پیرس میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ عام نظریہ یہ ہے کہ انسان سطح سمندر سے 5 ہزارمیٹر کی بلندی پر رہ سکتا ہے۔ لارینکوناڈا کیباشندے اس زیادہ بلندی پر ہیں اور ان کے بارے میں جان کاری ہمارے لیے ایک چیلنج ہوگی۔یہ شہر پیرو کے الانڈیس پہاڑی سلسلے میں سطح سمندر سے 5300 میٹر کی بلندی پر واقع ہے اور اس میں سخت ترین حالات میں 50 ہزار افراد بستے ہیں۔یہاں کی آبادی کو آکسیجن کی کمی کا سامنا ہے اور ان کے ہاں بعض انوکھی بیماریاں بھی ہوتیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ان امراض کا تعلق یہاں کی بلندی اور کم آکسیجن کے ساتھ ہوسکتا ہے۔ 30ن دن وہاں قیام کے دوران سائنسدان ان بیماریوں کی ماہیت اور ان کے علاج پر بھی تحقیق کریں گے۔ماہرین کا کہناتھا کہ اس مطالعاتی دورے کے نتائج میں سائنس دانوں کویہ سمجھے میں مدد ملے گی کہ آیا کم آکسیجن انسانی جسم کو کس طرح کا دفاعی میکنزم اختیار کرنا ہوگا۔ اس طرح ایسے ماحول میں پیدا ہونے والی بیماریوں یا گہرائی میں موجود مقامات میں نظام تنفس کو کیسے فعال رکھا جاسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…