پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

رکشے سے ایک لڑکی اتری، پل سے نیچے دیکھا اور واپس چلی گئی، اگلی صبح میں نے کیا دیکھاکہ۔۔۔؟ 47 سال سے دریائے راوی پر تعینات اللہ دتہ نےحیران کن واقعات بیان کر دیے

datetime 31  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) دریائے راوی ایسا دریا جہاں کئی لوگ ڈوب کر جان کی بازی ہار چکے ہیں مگر یہاں ایک ایسا شخص بھی ہے جو 47سال سے دریائے راوی میں ڈوبنے والوں کو بچاتا رہا، اس شخص کا نام اللہ دتہ ہے۔ اللہ دتہ کے مطابق اس نے اب تک دریائے راوی سے دو ہزار سے زائد لاشیں نکالیں اور 800افراد کو بچایا ہے۔ اللہ دتہ یہاں لوگوں کی جان بچانے کیلئے

محکمہ سول ڈیفنس کی جانب سے غوطہ خور کے طور پر تعینات ہے۔ اپنے ایک انٹرویو میں اللہ دتہ نے بتایا کہ اس دریا میں تیرتے ہوئے بھی لوگ ڈوبتے ہیں اور خودکشی کرنے والے لوگ بھی آتے ہیں، یہاں نہانے کیلئے آنیوالے لوگ ڈوب جاتے ہیں کیونکہ انہیں دریا کی گہرائی کا اندازہ نہیں ہوتا۔ اللہ دتہ نے بتایا کہ جو لوگ بچ جاتے ہیں ان کے فون نمبر اور گھر کا پتہ ہم لے لیتے ہیں اور جو لوگ بچ نہیں پاتے ان کی لاش نکالنے کے بعد ہم اس کی تصویرلے لیتے ہیں۔ وہ میں اپنے پاس رکھ لیتا ہوں اور میرے پاس ایک سال کا ریکارڈ ہوتا ہے۔جو لوگ یہاں نہانے لے لیے آتے ہیں انھیں میں وہی تصویریں دکھاتا ہوں کہ پانی میں ڈوب کر مرنے والے کا یہ حال ہوتا ہے جس وجہ سے پھر وہ نہانے سے باز آ جاتے ہیں اس لیے میری جیب میں ہمیشہ تصویریں موجود ہوتی ہیں۔بہت سارے واقعات ہوتے ہیں جو اکثر مجھے یاد بھی نہیں رہتے۔ مگر کچھ ذہن میں رہ جاتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ایک لڑکی آئی تھی۔ پل کے اوپر اور نیچے دیکھتی رہی اور پھر رکشے میں بیٹھ کر چلی گئی۔ پھر رات کو اس نے دوبارہ آ کر چھلانگ مار دی تھی۔ اگلی صبح تھوڑی دور ہی اس کی لاش پڑی تھی۔کئی مرتبہ ایسے بھی ہوا ہے کہ لوگ ہاتھا پائی پر اتر آتے ہیں کہ،میری جان کیوں بچائی، مجھے مرنےدو لیکن میں انھیں مرنے نہیں دیتا۔ جب تک میری زندگی ہے، میں یہی کام کروں گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…